Hadith 10115
Sahih Muslim صحیح مسلم

اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔

10115Sahih صحیح
عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «المُؤَذِّنونَ أطولُ النّاسِ أعنَاقاً يَومَ القِيَامَةِ».
معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Mu‘āwiyah (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say: "The muezzins will have the longest necks among the people on the Day of Judgment."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10115

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان دینے والوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔ ’أعناق‘ عُنق کی جمع ہے۔علمائے سلف و خلف کا اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول کی رو سے اس سے حقیقی لمبائی مراد ہے۔ جب روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے تو ان کی گردنیں لمبی ہوں گی تاکہ ان تک وہ پریشانی اور پسینہ نہ پہنچ پائے۔ ایک دوسرے قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف سب سے زیادہ اوپر ہو ہو کر دیکھ رہے ہوں گے کیوں کہ جھانک کر دیکھنے والا چیز کو دیکھنے کے لیے گردن کو لمبا کرتا ہے۔ چنانچہ گردن لمبی ہونے سے مراد اس ثواب کی کثرت ہے جسے وہ دیکھیں گے۔ ایک اور قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آقا اور سردار ہوں گے۔ اہلِ عرب، سرداروں کو لمبی گردن کے ساتھ موصوف کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کے پیرو کار بہت زیادہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال منقول ہیں۔
”قیامت ے دن“ جب اللہ تعالی لوگوں کو اٹھائے گا تو اذان دینے والوں کی ایک ایسی امتیازی شان ہو گی جو کسی اور کی نہیں ہو گی اور وہ یہ کہ ان کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی اور ان کے اظہار فضل و شرف کے لیے وہ اس سے پہچانے جائیں گے کیونکہ وہ اذان دیا کرتے تھے اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتے تھے، اس کی توحید اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے تھے، نماز اور فلاح کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ وہ بلند جگہوں سے ان کا اعلان کرتے تھے اس لیے ان کے عمل کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہی ہو گی کہ ان کے سر بلند ہوں گے اور ان کے چہرے اونچے ہوں گے۔ ایسا روزِ قیامت ان کی گردنیں لمبی کردینے سے ہو گا۔ چنانچہ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی مؤذن بنے اگرچہ کسی مسجد میں نہ بھی ہو تو تب بھی اسے اذان دینے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that the muezzins, who call to prayer, will have the longest necks on the Day of Judgment due to the honor of their work, their abundant goodness, and the greatness of their reward.

Topics موضوعات