قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #11214Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 11214)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
غزوہ تبوک میں عوف بن مالک نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ: چھ ایسی علامات کو شمار کر لو جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح۔ اس علامت کا وقوع عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ پھر ایک جان لیوا وبا آئے گی جو تم میں پھیل جائے گی اور تم اس تیزی کے ساتھ مرو گے جیسے مویشیوں میں وباء پھیلنے سے وہ مرتے ہیں۔پھر مال کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراضگی کا اظہار کرے گا کیوں کہ اس کی نظر میں یہ بہت تھوڑی رقم ہو گی۔ کہتے ہیں کہ یہ کثرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ظاہر ہوئی جب فتوحات کی کثرت ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا اور عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں یہ داخل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اور اس کی وجہ سے اس کے بعد ظہور پذیر ہونے والے فتنے ہیں۔ پھر مسلمانوں اور رومیوں کے مابین صلح ہو گی تاہم وہ مسلمانوں کے ساتھ غداری کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئیں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار جنگ جو ہوں گے اور ان کی کل تعدا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔
Explanation
‘Awf ibn Mālik went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) during the battle of Tabūk, while he was sitting in a leather tent. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Count six signs that indicate the approach of the Hour: my death, the conquest of Jerusalem." Jerusalem was conquered during the reign of ‘Umar ibn al-Khattāb. Then the Prophet spoke of a sweeping plague and increase of money. It is said there was a surplus of money during the time of ‘Uthmān because of the conquests. The Prophet further spoke of a great trial that would enter each Arab house. This was probably the assassination of ‘Uthmān and the subsequent tribulations. Then he spoke of a truce between the Muslims and the Romans. However, the Romans will betray the truce and attack the Muslims under eighty flags. Under each flag will be twelve thousand soldiers, totaling 960,000.