اللہ ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8888Sahih Muslim (HadeethEnc 8888)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما شام میں کچھ عجمی کسانوں کےپاس سے گزرے جنہیں جلانے کے لئے دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کی سزا میں سختی لانے کے لئے ان کے سروں پر تیل انڈیلا گیا تھا اس لئے کہ سورج کی گرمی کےساتھ تیل کی گرمی زور پکڑتی ہے۔ ہشام رضی اللہ عنہ نےان کو عذاب دینے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سب جس زمین پر کاشت کرتے ہیں اس کا کرایہ ابھی تک ادا نہیں کیے، اور ایک روایت میں ہے کہ: ان پر جو جزیہ واجب ہے اسے ادا نہیں کیے۔ جب ہشام رضی اللہ عنہ نےان کمزور لوگوں کے ساتھ اس قدر سختی کو دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ ﷺ خبر دے رہے تھے کہ جو لوگ دنیا میں ایسے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں جو عذاب کے مستحق نہیں تو اللہ تعالی ایسے لوگوں کو قیامت کے دن مکمل بدلے کے طور پر عذاب دے گا۔ ہشام رضی اللہ عنہ اپنی بات کہنے کے بعد گورنر کے پاس گئے اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنائی، گورنر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ان کو چھوڑ دے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قصور وار کو ایسی سزا نہ دی جائے جس سے وہ جرم سے باز آجائے اور شر سے رک جائے۔ بلکہ جو بات ممنوع ہے وہ عام سزا سے زائد سزا دینے کے متعلق ہے۔
Explanation
Hishām ibn Hakīm ibn Hizām (may Allah be pleased with him and his father) passed by non-Arab peasants in the Levant who were made to stand under the scorching sun, so he asked about their situation. He was informed that they were treated that way because they had not paid Jizyah despite their ability to pay it. Thereupon, Hishām (may Allah be pleased with him) said: I testify that I heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say: Verily, Allah tortures those who torture people unjustly in this world.