جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔” ایک روایت ہے: “سورہ کہف کے آخر کی۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6265Sahih Muslim (HadeethEnc 6265)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں زبانی یاد کر لیں، وہ مسیح دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ وہی مسیح دجال جو آخری زمانے میں نکلے گا اور الوہیت کا دعوی کرے گا۔ اس کا فتنہ روئے زمین پر آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک کی مدت میں سامنے آنے والا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ اسے کچھ ایسی خلاف عادت چيزیں عطا کرے گا، جن کےذریعے وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالے گا۔ سورہ کہف کے شروع کی دس آیتوں کو یاد کر لینے سے دجال کے فتنے سے تحفظ اس لیے ملے گا کہ ان آیتوں کے اندر کچھ ایسے عجائب اور خلاف عادت چیزوں کا ذکر ہوا ہے، جو دجال کے ہاتھوں ظاہر ہونے والی خلاف عادت چيزوں سے کہيں بڑھ کر ہيں۔ لہذا جو ان پر غور وفکر کر لے گا، وہ دجال کے فتنے کا شکار نہيں ہوگا۔ ایک روایت میں ہے : اس سورہ کے آخر کی دس آیتیں، جو {أفحسب الذين كفروا أن يتخذوا…} سے شروع ہوتی ہيں۔
حدیث کے فوائد
- سورہ الکہف کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ اس کی ابتدائی یا آخری آیتیں دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہیں.
- اس حدیث کے اندر دجال کے ظہور اور اس سے حفاظت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
- پوری سورۂ کہف کو یاد کر لینے کی ترغیب۔ اگر کوئی پوری سورہ یاد نہ کر سکے تو شروع اور آخر کی دس دس آیتيں یاد کر لے۔
- قرطبی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہتے ہيں: کہا گیا ہے: چوں کہ اصحاب کہف کے قصے میں بہت سے عجائب اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں، اس لیے جو اس قصے سے واقف ہوگا، اسے نہ دجال کا فتنہ عجیب لگے گا، نہ وہ اس سے ڈرے گا اور اس کا شکار ہوگا۔ جب کہ کسی اور نے کہا: اس کی وجہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: {لينذر بأسًا شديدًا من لدنه} (تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے۔) کیوں کہ یہاں سزا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سخت ہوگی اور اللہ کی جانب سے ہوگی، جو دجال کے دعوائے الوہیت، غلبہ اور عظیم فتنے کے مناسب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کے فتنے کو ایک بڑا فتنہ بتایا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس سے پناہ مانگی ہے۔ اس طرح اس حدیث کے معنی ہوں گے: جس نے ان آیتوں کو پڑھا، ان پر غور وفکر کیا اور ان کے معنی سے واقفیت حاصل کی، وہ اس سے خبردار رہے گا اور نتیجے کے طور پر محفوظ بھی رہے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that whoever memorizes ten verses from the beginning of Surat al-Kahf by heart will be protected, guarded, and shielded from the trial of the Antichrist, who will appear at the end of time and claim divinity. His trial will be the greatest trial on Earth from the time of Adam's creation until the advent of the Hour, due to the supernatural events that Allah Almighty will allow him to perform to deceive his followers. This is because the beginning of Surat al-Kahf contains wonders and signs that are greater than what the Antichrist will use to deceive the people. Therefore, whoever reflects upon it will not be deceived by the Antichrist. Another version reads: The last ten verses of the Surah from His statement: {Do the disbelievers think that they can take My slaves…}.