Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے…

عن جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال: شكا أهل الكوفة سعدًا يعني: ابن أبي وقاص رضي الله عنه إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فعزله، واستعمل عليهم عمارًا، فشَكَوا حتى ذكروا أنه لا يُحسن يصلي، فأرسل إليه، فقال: يا أبا إسحاق، إن هؤلاء يزعمون أنك لا تُحسن تصلي، فقال: أمَّا أنا والله فإني كنت أصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أَخْرِمُ عنها، أصلي صلاتَي العشاء فأَرْكُدُ في الأُولَيَيْنِ، وأُخِفُّ في الأُخْرَيَيْنِ. قال: ذلك الظن بك يا أبا إسحاق، وأرسل معه رجلًا -أو رجالًا- إلى الكوفة يسأل عنه أهل الكوفة، فلم يَدَعْ مسجدًا إلا سأل عنه، ويُثْنُونَ معروفًا، حتى دخل مسجدًا لبني عَبْسٍ، فقام رجل منهم، يقال له أسامة بن قتادة، يكنى أبا سَعْدَةَ، فقال: أما إذ نشدتنا فإن سعدًا كان لا يسير بالسَّرية ولا يَقْسِم بالسَّوية، ولا يَعْدِل في القضية. قال سعد: أما والله لأدعون بثلاث: اللهم إن كان عبدك هذا كاذبًا، قام رِياء، وسُمعة، فأطل عمره، وأطل فقره، وعرضه للفتن. وكان بعد ذلك إذا سئل يقول: شيخ كبير مفتون، أصابتني دعوة سعد. قال عبد الملك بن عمير الراوي عن جابر بن سمرة: فأنا رأيته بعد قد سقط حاجباه على عينيه من الكبر، وإنه ليتعرض للجواري في الطرق فيَغْمِزُهُنَّ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنادیا؛ کوفہ والوں نے سعد رضی اللہ کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ انھیں تو اچھی طرح نماز پڑھانا بھی نہیں آتا۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا اور ان سے ان سے پوچھا کہ اے ابو اسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تمھیں اچھی طرح نماز پڑھانا بھی نہیں آتا۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انھیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھااور اس میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ عشا کی نماز پڑھاتا، تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قراءت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! مجھ کو آپ سے یہی امید تھی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کچھ آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی؛ لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے، تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابو سعدہ تھی، کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے، تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مالِ غنیمت کی تقسیم صحیح طریقے سے کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمھاری اس بات پر) تین بد دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے، تو اس کی عمر دراز کر اور اسے بہت زیادہ محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا، تو کہتا کہ آزمائش میں مبتلا ایک بوڑھا ہوں۔ مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگ گئی ہے۔ راوی عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ جابر بن سمرہ نے بیان کیا: میں نے اسے دیکھا؛ اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھیں، لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا اور ان پر دست درازی کرتا تھا۔
Jābir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) reported: The people of Kufa complained to ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) about their governor Sa‘d (ibn Abi Waqqās) (may Allah be pleased with him). He dismissed him and appointed ‘Ammār as their governor. They lodged many complaints against Sa‘d and even alleged that Sa‘d does not know how to perform the prayers properly. ‘Umar sent for him and said: "O Abu Is'hāq, those people claim that you do not pray properly." He replied: "By Allah, I used to lead them in prayer exactly as I learnt from the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him). I prolong the first two Rak‘ahs of the ‘Ishā' prayer and shorten the last two." ‘Umar then said: "That is what I thought of you, O Abu Is'hāq." Then he sent a man (or more) with him to Kufa to ask the people about him. This man went there and did not leave any mosque without asking about Sa‘d. All the people praised him till he came to the mosque of the tribe of Banu ‘Abs; where a man called Usāmah ibn Qatādah, with a surname of Abu Sa‘d, stood up and said: "Since you asked, I am bound to tell you that Sa‘d never marched with the armies, nor did he ever divide the spoils of war fairly, nor was he ever fair in delivering justice regarding legal verdicts." This complaint reached Sa‘d and he said: "By Allah, I shall make three supplications: O Allah, if this slave of Yours is a liar and got up for showing off and speaking boastfully, then prolong his life, make him poor for the rest of his life, and afflict him with trials." This person suffered, following the invocation of Sa‘d and would tell people he was an old man subjected to trials because of Sa‘d’s invocation.
‘Abd al-Malik ibn ‘Umayr, who narrated from Jābir ibn Samurah, said: "I saw this man afterwards in such a state that his eyebrows were shaggy and had fallen over his eyelids, because of old age; and he used to wink at young girls as they pass by in the roads.”

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5219

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو اہل کوفہ نے امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی شکایت کی۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ تو اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ سعد رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، جنھیں نبی ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی؛ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اہلِ کوفہ نے آپ کی شکایت کی ہے۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے! سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے اور عشا کی نماز کا ذکر کیا۔ شاید شکایت کرنے والوں کو اسی نماز کے متعلق شکایت تھی۔ انہوں نے کہا: میں تو انھیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ عشا کی نماز پڑھاتا، تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قراءت) لمبی کرتا اور بعد کی دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:اے ابو اسحاق! مجھ کو آپ سے یہی امید تھی۔ گویا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا تزکیہ کیا؛ کیوں کہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ نماز اچھی طرح ادا کرتے ہوں گے اور قوم کو اسی طرح نماز پڑھاتے ہوں گے، جس طرح نبی ﷺ نے حکم دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی کارروائی کی؛ کیوں کہ وہ ذمے داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے اور ذمے داری کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ آپ نے کچھ آدمیوں کو کوفہ والوں کے پاس بھیجا؛ تاکہ وہ اہل کوفہ سے سعد رضی اللہ عنہ اور ان کی سیرت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ ان لوگوں نے ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے ان کی تعریف کی؛ لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے اور ان سے پوچھا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے، تو (سنیے کہ) یہ شخص نہ جہاد میں نکلتا ہے، نہ صحیح طور پر مالِ غنیمت تقسیم کرتا ہے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتا ہے۔ اس نے سعد رضی اللہ عنہ پر تین تہمتیں لگائیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ جب تم نے ایسا کہا ہے، تو اللہ کی قسم! میں (تمھاری اس بات پر) تین بد دعائیں کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے بد دعا کی کہ اللہ اس کی عمر دراز کرے ، بہت زیادہ محتاج بنائے اور فتنوں میں مبتلا کردے! العیاذ باللہ۔ یہ تین بڑی بد دعائیں تھیں۔ لیکن سعد رضی اللہ عنہ نے استثنا کا طریقہ اپنایا اور فرمایا: "اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے"۔ یعنی نا حق تہمت لگائی ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور اس آدمی کو لمبی عمر عطا کی۔ وہ اتنا بوڑھا ہوا کہ اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پرآ گئی تھیں۔ وہ فقیر وقلاش اور فتنوں میں مبتلا تھا۔ حتیٰ کہ اس بڑھاپے میں بھی لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا۔ وہ انھیں بازاروں میں روکتا تھا؛ تاکہ ان سے شہوت انگیز گفتگو کرے۔ -اللہ کی پناہ!- وہ اپنے بارے میں کہا کرتا تھا: آزمائش میں مبتلا بوڑھا آدمی ہے، جسے سعد کی بد دعا لگی ہوئی ہے۔

Explanation

The Commander of the Believers ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) appointed Sa‘d ibn Abi Waqqās (may Allah be pleased with him) as the governor of Kufa, but its people complained to ‘Umar about Sa‘d.
They lodged many complaints against Sa‘d and even alleged that Sa‘d did not know how to perform the prayers properly, despite the fact that he was a revered Companion of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and one of the ten who were promised Paradise.
Accordingly, ‘Umar sent for Sa‘d and told him that the people of Kufa filed many complaints against him and that they even claimed that he did not pray properly. Sa‘d (may Allah be pleased with him) replied that he used to perform the prayer with them exactly as he learnt it from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) i.e. prolonging the first two Rak‘ahs of the ‘Ishā' prayer and shortening the last two. He mentioned the ‘Ishā' prayer, most likely because it was specifically mentioned by the complainers.
‘Umar (may Allah be pleased with him) commended Sa‘d and praised him saying: "That is what I thought of you, O Abu Is'hāq.” In other words ‘Umar (may Allah be pleased with him) confirmed that Sa‘d was trustworthy, and that he was sure that he used to lead the people in prayer and perform it exactly as the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him).
Nevertheless, ‘Umar (may Allah be pleased with him) investigated the issue by sending men to the people of Kufa in order to inquire about Sa‘d and how he used to carry out his duties, because he knew well that he was responsible as a ruler of all Muslims. Those men went there and did not leave any mosque without asking about Sa’d (may Allah be pleased with him). All the people praised him till they came to the mosque of the tribe of Banu ‘Abs. When they asked the people there, a man stood up and said: "Since you asked; I am bound to tell you that Sa‘d never personally marched in Jihad, nor did he ever divide the spoils of war fairly, nor was he ever fair in judging between people!"
The man made three serious accusations against Sa‘d (may Allah be pleased with him) who decided to make three invocations against that man. He asked Allah, the Exalted, to prolong the life of that man, make him poverty stricken throughout the course of his life, and afflict him with trials. Nevertheless, before making these invocations, Sa‘d (may Allah be pleased with him) said: “If this slave of Yours is a liar and got up for showing off and speaking boastfully.”
Allah, the Exalted, answered the supplication and that man lived long until his eyebrows became shaggy and fell over his eyelids, because of old age, and suffered poverty as well as trials. Despite his old age, he used to wink at the young girls as they pass by in the roads. This man also used to tell people that he was an old man subjected to trials because of Sa‘d’s invocation.

Topics موضوعات