مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: «مجھے تلاوت سناؤ
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3571Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3571)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں قرآن میں سے کچھ پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو کیسے پڑھ کر سناؤں جب کہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں“۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی کچھ آیتیں تلاوت کی، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر پہنچے: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}۔ یعنی آپ کا اور آپ کی امت کا کیا حال ہوگا جب ہم آپ کو آپ کی امت پر گواہ بنا کر لائیں گے کہ آپ نے ان تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اب تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو اس موقف کی ہیبت اور اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حدیث کے فوائد
- نووی کہتے ہيں: تلاوت کو سننا، اس کی طرف کان لگانا، اس وقت رونا اور اس میں غور وفکر کرنا مستحب ہے۔ کسی دوسرے سے تلاوت کرنے کی درخواست کرنا تاکہ اسے سنے، یہ بھی مستحب ہے، اور یہ خود تلاوت کرنے کے مقابلے میں سمجھنے اور غور وفکر کرنے میں زیادہ مؤثر ہے۔
- قرآن کی تلاوت کی طرح اسے سننے میں بھی ثواب ہے۔
- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت، رسول اللہ ﷺ نے ان سے تلاوت سننے کی خواہش ظاہر کی، یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قرآن سیکھنے، اسے حفظ کرنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی حرص پر دلالت کرتا ہے۔
- اللہ عزوجل کی آیات سنتے وقت اس کے خوف سے رونے کی فضیلت، نیز (تلاوت کے وقت) وقار وسکینت کو لازم پکڑنے، اچھی طرح خاموشی اختیار کرنے اور چیخ و پکار نہ کرنے کی فضیلت۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) asked ‘Abdullah ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) to recite something from the Qur’an to him. Ibn Mas‘ūd said: O Messenger of Allah, how can I recite it to you when it was revealed to you? The Prophet (ﷺ) replied: Indeed, I love to hear it from others. So he recited to him from Surat an-Nisā’ and upon reaching the verse that reads: {How will it be when We bring a witness from every community, and bring you [O Prophet] as a witness against these [people]?} Meaning: What will be your condition—and that of your Ummah—when We bring you as a witness over your people, testifying that you conveyed to them your Lord's message? At that point, the Prophet (ﷺ) said: Stop reading now. Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) said: I turned to him, and his eyes were flowing with tears—out of awe for that scene and mercy for his Ummah.