صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

انسان، کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6367Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «النَّاسُ مَعَادِن كَمَعَادِن الذَّهَب وَالفِضَّة، خِيَارُهُم فِي الجَاهِلِيَّة خِيَارُهُم فِي الإِسْلاَم إِذَا فَقُهُوا، والأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَة، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ».
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:
«تَجِدُون النَّاسَ مَعَادِن: خِيَارُهُم فِي الجَاهِليَّة خِيَارُهُم فِي الإِسْلاَم إِذَا فَقِهُوا، وَتَجِدُون خِيَار النَّاس فِي هَذَا الشَّأْن أَشَدُّهُم كَرَاهِيَة لَه، وَتَجِدُون شَرَّ النَّاس ذَا الوَجْهَين، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَء بِوَجه، وَهَؤُلاَء بِوَجْه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”انسان کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے ناآشنا رہتی ہیں“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ اور تم حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو، جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "People are precious metals, like the metals gold and silver. The best of them in the pre-Islamic period are the best of them in Islam, if they understand. Souls are conscripted soldiers, whichever of them come together, they unite and whichever of them disregard each other, they diverge."
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ''You find people like metal; the best of them in the pre-Islamic era are the best of them in Islam, if they understand. And you find the best of people in this matter are those who detest it most. And you find the most evil of people are the two-faced; the ones who come to these with one face and to those with another.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6367

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو معادن (کانوں) سے تشبیہ دینے میں کئی دلالتوں کی طرف اشارہ موجود ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ لوگوں کی طبیعتیں اور ان کی اخلاقی اور نفسیاتی خوبیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اور اس بات کو کانوں (معادن) کے فرق سے سمجھا جاسکتا ہے نیز یہاں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اصلاح و درستگی کو قبول کرنے میں لوگوں کے مابین فرق پایا جاتا ہے، چنانچہ بعض لوگ آسانی سے اصلاحی باتوں کو قبول کرلیتے ہیں جب کہ بعض کے تئیں صبر و تحمل کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعض میں تو اصلاح کو قبول کرنے کا مادہ ہی نہیں ہوتا اور یہی حال کانوں کا ہوتا ہے، کانوں سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پر بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ لوگ، اپنے نسب کے اشرف و افضل ہونے اور اس کے گھٹیا ہونے کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتے ہیں اور یہ بات معادن کی نفاست و عمدگی کے فرق سے سمجھی جاسکتی ہے، چنانچہ بعض سونا اور چاندی جیسے قیمتی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض لوہا اور قلعی شدہ ٹین جیسے معمولی قیمت رکھتے ہیں۔ معادن سے تشبیہ دینے میں اس پہلو پرتوجہ مبذول کی جارہی ہے کہ معادن کی طرح لوگوں میں کسی امر کو اپنانے کی قوت بھی جداگانہ ہوتی ہے، پس عرب کے معادن سے مُراد ان کی اصل اور ان کےحسب و نسب ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان: ”جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں“ یعنی زمانۂ جاہلیت میں حسب و نسب، خاندان اور اصل کے نقطہ نظر سے سب سے زیادہ قابلِ عزت لوگ ہی بہتر اور اچھی صفات کے مالک ہیں بشرطیکہ وہ دین میں بھی خوب سمجھ بوجھ حاصل کریں، جیسے خاندانِ بنی ہاشم ، نسب اور اصل کے اعتبار سے زمانہ جاہلیت میں قریش کا سب سے زیادہ بہترین قبیلہ رہا جیسا کہ صحیح حدیث کی نص اس بات پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح وہ اسلام میں بھی بدستور سب سے بہترین رہیں گے بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کا تفقہ حاصل کریں اور اس دین کا علم حاصل کریں، اگر اُن میں دین کی سمجھ نہ ہو تو بہترین عربی النسل ہونے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی مکرم مخلوق کا درجہ نہیں پاسکتے اور نہ ہی بہترین مخلوق ہوسکتے ہیں۔
اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان، اپنے نسب کی بنیاد پر اشرف و افضل اسی شرط پر ہوتا ہے کہ اس کو دین کی سوجھ بوچھ حاصل ہو، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نسب کی بڑی تاثیر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نسب کے اعتبار سے بنوہاشم لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور شرف والی قوم تھی اور انھیں میں سے ساری مخلوق میں اشرف و افضل ذات گرامی، رسول اللہ ﷺ ﴿اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ ”اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟“ کی پیدائش ہوئی، اگر آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ قبیلہ سب سے زیادہ شرف کا حامل نہ ہوتا تو اس سے نبی ﷺ نہیں آتے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی بعثت، انتہائی شریف قبیلے اور اعلی ترین نسب ہی میں ہوئی۔
حدیث کے اس خلاصہ میں دونوں حدیثیں برابر کی شریک ہیں۔
پہلی حدیث کا اختتام آپ ﷺ کے فرمان: ”اور روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں، یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے ناآشنا رہتی ہیں“ پر ہوتا ہے، اور احتمال ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہوکہ لوگوں میں خیر و شر والی مختلف اشکال ہوتی ہيں ۔ لہذا بہترین قسم کے لوگ، اپنے جیسے بھلے لوگوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور شریر و اوباش قسم کے لوگ، اپنی ہی طرح کے شریر لوگوں کی طرف میلان رکھتے ہیں تو روحوں کی باہمی پہچان، خیر یا شر کے مطابق پیدا کردہ جبلی و فطری تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے اور جب ان فطری تقاضوں میں اتفاق قائم ہو تو وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے فطری تقاضے مختلف ہوئے تو وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتے ہیں۔ اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ عالم غیب میں ہوئے ابتدائے آفرینش کے تئیں خبر ہو، کہ روحوں کو جسموں سے قبل پیدا کردیا گیا اور وہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی رہیں اور جب انھیں اجسام میں ڈالا گیا تو اس پہلے تعارف کی بناء پر ان کے مابین تعارف ہوا اور عالم غیب کے اس گزرے ہوئے زمانہ کے مطابق، ان کے مابین ایک دوسرے کی پہچان اور علیحدگی قائم ہوئی اور اس طرح اچھے لوگ، اچھے افراد کی جانب اور برے، بروں کی جانب مائل ہوئے۔
ابن عبدالسلام کہتے ہیں کہ باہمی پہچان اور اختلاف سے مراد، لوگ اپنی صفات میں ایک دوسرے کی قربت یا تفاوت ہے کیونکہ اگر کسی شخص کی صفات، تم سے میل نہ کھاتی ہوں تو تم اس شخص سے نفرت کا معاملہ کروگے اور کسی انجان شخص سے عدمِ شناسائی کی بنا پر نفرت و ناپسندیدگی کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے اور اس کا تعلق تشبیہِ مجازی سے ہے کہ جس میں ناپسندیدہ شخص کو ناشناسا شخص سے اور مانوس شخص کو ایک معروف و شناسا شخص سے تشبیہ دی گئی۔
دوسری حدیث کا اختتام، رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر ہوتا ہے کہ ”اور حکومت اور سرداری کے لائق اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو، اور آدمیوں میں سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دورخہ (دوغلا) ہو؛ جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہو اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہو“، چنانچہ آپ ﷺ کے قول: (اس معاملے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر پاؤگے ) یعنی خلافت اور سرداری میں مطلب احکام کی باہمی تعمیل میں سرگرداں رہنے والے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو سرداری کے لالچی و حریص نہیں ہوتے اور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں اگر اختیار و اقتدار آجائے تو انہیں راست روی کی رہنمائی اور اصلاحِ قوم کی توفیق میسر ہوتی ہے، جب کہ امارت و سرداری کی حرص و طمع رکھنے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
بُرے لوگ دو رخے و دوغلے ہوتے ہیں، جیسا کہ منافقین کا ایسا ہی طرز عمل ہوتا ہے، قرآن کہتا ہے ہے: ﴿وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ﴾ ”اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں“۔ اور بیشتر افراد میں اس قسم کی بری عادات پائی جاتی ہیں، ایسےکردار سےاللہ تعالیٰ کی پناہ! کیوں کہ اس کا نفاق کے ایک شعبہ سے تعلق ہے۔ آپ ایسے شخص کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کے پاس آکر چاپلوسی کرتا ہے اور آپ کی تعریفیں کرتا ہے اور بسااوقات اس تعریف میں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتا ہے، لیکن جب آپ کے پیٹھ پیچھے ہوتا ہے تو آپ کی کردار کشی کرتا ہے، آپ کی مذمت کرتا ہے، آپ کو گالی گلوچ دیتا ہے اورآپ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو آپ میں نہیں ہوتیں۔ ایسے کردار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ! یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے اس کردار کے حامل کو لوگوں میں سب سے بدترانسان قرار دیا۔

Explanation

The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) likened people to metal, thereby indicating many things. He implied that people are different in character, morals, and mental qualities. This is understood from his reference to the differences between metals. He also indicates that people are different in accepting reform. Some of them are easy, some need patience, and some are impervious to it. Furthermore, the reference to metal shows that people are different in respect to being noble and ignoble, just as metals differ in quality. Some are expensive like gold and silver; others are cheap like iron and tin. Likewise, the reference to metal indicates endurance. The metals of the Arabs are their origin and lineage. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) says: “The best of them in the pre-Islamic period are the best of them in Islam, if they understand.'' This means that the noblest of people, in terms of their origin, lineage, and essence were the best in the pre-Islamic period, as long as they understood. For example, the Banu Hāshim were the best of the Quraysh before Islam, as far as their origins and lineage were concerned, and this is stated in an authentic Hadīth. The same Banu Hāshim were the best in Islam if they learned and understood the religion of Allah. If they did not do so, even though they had the best Arabic backgrounds, they were not the noblest in the sight of Allah nor were they the best of humans. This is proof that a person's lineage is a source of honor for him, as long as he understands the religion. There is no doubt that lineage has an effective role here; therefore, the Banu Hāshim were the best and the noblest of people. Consequently, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was the noblest of all human beings: {Allah is most knowing of where [i.e., with whom] He places His message} [Sūrat al-An‘ām: 124]. If this tribe had not been the noblest of all humans, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would not have been sent from them. The first Hadīth concludes with the Prophet's saying: “Souls are conscripted soldiers, whichever of them come together, they unite and whichever of them disregard each other, they diverge.'' This could be referring to the concept of uniting in good and evil, as a good person inclines to his like and an evil person inclines to his equivalent. Therefore, souls unite in response to their innate motives, good or evil. If they unite, they recognize each other, if they diverge, they overlook each other. This could also be a reference to the beginning of creation in the unseen world. It is reported that the souls were created before the bodies, so they would meet and unite. When the souls reside in their bodies, they recognize each other because of their primordial uniting. So their uniting and divergence is attuned to this primeval correspondence and, as such, the good ones incline to the good ones and the evil ones to the evil ones. Ibn ‘Abd As-Salām says: ''The recognition and denial here mean uniting and diverging on attributes. For if a person has different attributes to you, you disavow him. In regard to the unknown, one denies it, due to lack of knowledge. So the simile is used metaphorically to indicate the unknown as deniable and the concordant as recognized.'' The second Hadīth concludes with the Prophet's saying: “And you find the best of people in this matter are those who detest it most. And you find the most evil of people are the two-faced; the ones who come to these with one face and to those with another.'' Here, the best people in dealing with rulings are those who are not eager for leadership. Therefore, if they are in a position of authority, they will be guided, as opposed to those who long for it. Finally, the most evil of people are those who are two-faced. They approach some people with one face and others with another, as the hypocrites do: {And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allah has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?} [Sūrat al-Baqarah: 67] Unfortunately, this is a rampant attitude; it is a type of hypocrisy. A two-faced person would flatter you with praise and might even exaggerate, but behind your back he insults, defames, and slanders you. This is a major sin that is typical of the most evil of people.

Topics موضوعات