صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3772Sahih صحیح
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا حَسَدَ إلا في اثنتين: رجل آتاه الله مالا، فسَلَّطَه على هَلَكَتِهِ في الحَقِّ، ورجل آتاه الله حِكْمَة، فهو يقضي بها ويُعَلِّمَها».
وعن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار».
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There should be no envy except in two (cases): A man whom Allah has given wealth and he spends it in the right way, and a man whom Allah has given wisdom and he judges according to it and teaches it to others."
‘Abdullāh ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There should be no envy except in two (cases): a man whom Allah has given (knowledge of) the Qur'an, and he recites it during the night and day, and a man whom Allah has given wealth, and he spends it during the night and day (in a rightful way).”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3772

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حسد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی حسد تو وہ ہوتا ہے جو مذموم اورشرعا حرام ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ اس کے بھائی سے نعمت چھن جائے۔ ایک حسد وہ ہوتا ہے جو مباح ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی کسی دوسرے کے پاس کوئی دنیاوی نعمت دیکھتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اسی طرح کی نعمت اسے بھی مل جائے۔ اسی طرح ایک حسد وہ ہوتا ہے جو شرعا قابل تعریف اور مستحب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی اور کے پاس کوئی دینی نعمت دیکھے اور خواہش کرے کہ وہ اسے بھی مل جائے۔ نبی ﷺ کی یہاں آپ ﷺ کے فرمان ”حسد صرف دوصورتوں میں جائز ہے“ میں حسد سے مراد حسد کی یہی قسم ہے۔ یعنی یہ کہ حسد کی مختلف انواع کے اعتبار سے ان کا حکم بھی مخلتف ہوتا ہے اور یہ شرعی طور پر قابل تعریف اور مستحب صرف دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلی صورت: کوئی ایسا شخص ہو جو مالدار بھی ہو اور صاحب تقوی بھی۔ اسے اللہ نے بہت سا حلال مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ اسے دیکھ کر آدمی تمنا کرے کہ کاش وہ بھی اس کی طرح کا ہو اور وہ اس نعمت پر اس پر رشک کرے۔
دوسری صورت: کوئی ایسا عالم شخص ہو جسے اللہ نے علم نافع سے نوازا ہو جس پر وہ خود بھی عمل کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہو اور اس کے ذریعے لوگوں کے مابین فیصلے کرتا ہو۔اسے دیکھ کر آدمی خواہش کرے کہ وہ بھی اس کی طرح کا ہو جائے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out in this Hadīth that envy is of different types. There is a type that is blameworthy and unlawful under Shariah; that is when a person wishes for the removal of some blessing from his brother. The permissible type of envy is when one sees someone enjoying a worldly blessing and he hopes to have the same for himself. There is also a praiseworthy type of envy which is recommended under Shariah. It is when one sees someone enjoying a religious blessing and wishes to have the same thing for oneself. This is what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) intended by his statement: "There should be no envy except in two (cases)". This means that envy has different types, and its ruling differs according to its type. It is not praiseworthy and recommended by Shariah except in two cases: 1. When there is a wealthy righteous man whom Allah has given lawful wealth, which he spends in the cause of Allah, the Almighty. So one hopes to be like him, and envies him, the kind of envy that is free from malice, for that blessing. 2. When there is a knowledgeable man whom Allah has given beneficial knowledge which he acts upon, teaches to others, and judges between the people according to. So, he wishes to be like him.

Topics موضوعات