صحیح مسلم · سنن ابو داؤد · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sahih Muslim · Sunan Abi Dawud · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3337Sahih صحیح
عن ثوبان رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله زَوَى لي الأرض، فرأيت مشارقها ومغاربها، وإن أمتي سيبلغ ملكُها ما زُوِيَ لي منها. وأعطيت الكنْزين الأحمر والأبيض. وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكها بسَنَةٍ بعامةٍ، وأن لا يُسَلِّطَ عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ؛ وإن ربي قال: يا محمد، إذا قضيتُ قضاءً فإنه لا يُرَدُّ، وإني أعطيتك لأمتك أن لا أهلكهم بسنة عامة، وأن لا أُسَلِّطَ عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ ولو اجتمع عليهم مَنْ بأقطارها، حتى يكون بعضُهم يُهْلِكُ بعضًا ويَسْبِي بعضُهم بعضًا".
ورواه البرقاني في صحيحه، وزاد: "وإنما أخاف على أمتي الأئمةَ المضلين، وإذا وقع عليهم السيف لم يرفع إلى يوم القيامة. ولا تقوم الساعة حتى يلحق حي من أمتي بالمشركين، وحتى تعبد فِئامٌ من أمتي الأوثان. وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون؛ كلهم يزعم أنه نبي، وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي. ولا تزال طائفة من أمتي على الحق منصورة لا يضرهم من خذلهم حتى يأتي أمر الله تبارك وتعالى".
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ کر رہے گی۔اور مجھے سرخ اورسفید دو خزانے عطا کئے گئے اورمیں نے اپنے رب سےاپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور اپنےعلاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح سمجھے۔ میرے رب نے فرمایا:اے محمد! جب میں کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بے شک میں نے آپ کی امت کے لیے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جوان سب کی جانوں کو مباح وجائز سمجھ کر انہیں ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے ہی لوگ جمع کیوں نہ ہو جائیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔
امام برقانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الصحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ (حکمران، علماء اور پیشواؤں) کا خوف ہے اور جب میری امت میں ایک بار تلوار چل پڑے گی تو قیامت تک نہیں رکے گی۔ اور اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ میری اُمت کا ایک قبیلہ مشرکین کے ساتھ نہ مل جائے اور یہاں تک کہ ان میں سے کچھ گروہ بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں اور عنقریب میری اُمت میں تیس کذاب اٹھیں گے جن میں سے ہرایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آن پہنچے گی“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Thawbān (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah brought the corners of the earth together for me, so I saw its eastern and western parts. The dominion of my Ummah will definitely reach as far as what was brought together for me (all parts of the world). I have been granted the two treasures, the red and the white. I asked my Lord not to destroy my Ummah due to a common drought nor to afflict them with an enemy from other than themselves who would annihilate them. My Lord said: 'O Muhammad, when I pass a decree, it is not retracted. I have granted that I will not destroy your Ummah by a common drought, nor will I release against them an enemy from other than themselves, who will annihilate them - even if the people from the surrounding regions join forces against them - until they themselves kill and capture each other.'"
Al-Burqāni narrated this Hadīth in his Sahīh with this addition: "I only fear for my Ummah the misguiding leaders. If the sword falls upon them, it will not be lifted until the Day of Resurrection. The Hour will not be established until a community from my Ummah join the polytheists and until large groups from my Ummah worship idols. There will be in my Ummah thirty impostors, each of them claiming to be a prophet. I am the seal of the prophets; there will be no prophet after me. A group from my Ummah will continue to uphold the truth and be victorious, regardless of those who let them down (did not support them), until the command of Allah, Exalted and Glorified, comes.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslimسنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3337

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ ایک بہت جلیل القدر حدیث ہے جس میں بہت سے اہم امور اور سچی خبریں ہیں۔ نبی صادق و مصدوق ﷺ اس حدیث میں خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے ساری زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مشرق بعید سے لے کر مغرب بعید تک وہ سارا علاقہ دیکھ لیا جو آپ ﷺ کی امت کی ملکیت میں آئے گا۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جس کا مصداق وجود میں آ چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کا دائرہ اقتدار اتنا وسیع ہوا کہ وہ مغرب بعید سے لے کر مشرق بعید تک پھیل گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو دو خزانے دیے گئے۔ آپ ﷺ نے جیسے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو کسری و قیصر کی سلطنت پر غلبہ حاصل ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ سونا و چاندی اور جواہرات بھی ان کے ہاتھ آئے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے اپنے رب سے اپنی امت کے حق میں دعا کی کہ وہ انہیں کسی عمومی قحط سے ہلاک نہ کرے اور یہ کہ کفار میں سے ان پر کوئی ایسا دشمن نہ مسلط کر دے جو ان کے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں بیخ و بن سے اکھاڑ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی پہلی دعا قبول کر لی اور دوسری بھی جب تک کہ امت اختلافات و تفرقہ اور باہمی لڑائے جھگڑے سے پرہیز کرتی رہے گی۔ جب یہ سب کچھ ہونے لگ جائے گا تو پھر اللہ ان پر کفار میں سے دشمن کو مسلط کر دے۔ جب امت تفرقے کا شکار ہو گئی تو یہ سب کچھ بھی واقع ہو گیا۔
آپ ﷺ نے امت کے سلسلے میں حکام اور خود گمراہ اور گمراہ کن علما کے خوف کا اظہار کیا۔ کیونکہ لوگ بھی ان کے گمراہی میں ان کی اقتدا کریں گے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ جب امت میں فتنہ اور قتل و غارت گری کا آغاز ہو جائے گا تو پھر یہ قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سب کچھ ویسے ہی ہو چکا ہے جیسے آپ ﷺ نے خبر دی۔ جب سے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے فتنہ پیدا ہوا ہے تب سے لے کر آج تک ویسے ہی جاری ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ کی امت کے بعض لوگ مشرکین کے علاقوں میں چل جائیں گے اور ان کا دین اختیار کر لیں گے اورامت کے کچھ گروہ شرک کی طرف راغب ہو جائیں گی۔ یہ سب کچھ جیسے آپ ﷺ نے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ چنانچہ قبروں، درختوں اور پتھروں ساری چیزوں کی پوجا کی گئی۔
آپ ﷺ نے نبوت کے دعوے دار ظاہر ہونے کے خبر دی اور فرمایا کہ جو بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ نے خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے ایک گروہ اسلام پر قائم رہے گا حالانکہ بہت المناک واقعات اور مصائب کا ظہور ہو گا اور یہ کہ یہ گروہ باوجود اپنی قلت کے اپنے دشمنوں اور مخالفین سے بالکل بھی زک نہیں اٹھائے گا۔

Explanation

This great Hadīth addresses important themes and facts. The Prophet says that Allah brought the corners of the earth together for him, so he could see the kingdom of his Ummah from east to west. This is a true historical fact; Muslims did expand from the Far West to the Far East. The Prophet also said that he was given two treasures. This too is a true historical fact, because Muslims conquered the land of Persia and Rome and obtained their gold and silver.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked Allah, the Almighty, not to destroy Muslims by a common drought nor to afflict them with an enemy from the unbelievers who would control their lands and eradicate their populations. Allah fulfilled the first and second requests, on condition that the Muslims avoid internal disputes. If they diverge and fight among themselves, an enemy from the disbelievers will take control over them. This actually happened when the Muslims divided.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) feared that Muslims would be inflicted with misguiding leaders and scholars, who would lead people astray and further said that if a civil war erupts between Muslims, it will persist until the Day of Resurrection. This has indeed taken place. A civil war started when ‘Uthmān was killed, and it is still going on. The Prophet also said that some Muslims will join the lands and religions of the polytheists, and that groups of Muslims will leave the fold of Islam. This happened when some Muslims worshiped tombs, trees, and stones.
In addition, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) spoke of pseudo-prophets who will emerge, even though prophecy ended with him. He finally gave glad tidings of a group of Muslims who will uphold Islam, despite these crises and tribulations. This group despite being a minority, will not be frustrated by the schemes of its enemies and opponents.

Topics موضوعات