موطا امام مالک · سنن دارمی
Muwatta Malik · Sunan ad-Darimi

رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ: قرآن کو صرف طاہر ہی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8401Sahih صحیح
عن عبد الله بن أبي بكر بن حزم، أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعَمْرو بن حَزْم: «أن لا يَمَسَّ القرآن إلا طَاهر».
عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Abi Bakr ibn Hazm reported that it was mentioned in a letter that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sent to ‘Amr ibn Hazm that: "No one should touch the Qur'an unless he is pure."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
موطا امام مالکMuwatta Malikسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8401

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا“ یعنی عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جب نجران کے قاضی تھے تو آپ ﷺ نے انہیں ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر دیا تھا جس میں بہت سے احکامِ شریعت جیسے فرائض و صدقات اور دیات وغیرہ کا بیان تھا۔ یہ ایک مشہور مکتوب ہے جسے امت نے قبول کیا ہے۔
”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“ یہاں چھونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پاک کو بغیر کسی آڑ کے براہ راست ہاتھ لگائے۔
اس بنیاد پر اگر آدمی کسی ایسی آڑ کے پیچھے سے اسے اٹھائے جو اس سے الگ ہو مثلاً وہ اسے کسی تھیلی یا بیگ میں اٹھائے، یا لکڑی وغیرہ سے اس کے اوراق پلٹے تو یہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس صورت میں چھونے کا عمل نہیں ہوا ہے۔ یہاں قرآن سے مراد وہ تختیاں، اوراق اور چمڑے وغیرہ ہیں جن پر قرآن لکھا گیا ہے، یہاں قرآن سے مراد کلام نہیں ہے کیونکہ کلام کو چھوا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔
’’سوائے طاہر کے‘‘ طاہر کا لفظ چار معانی میں مشترک ہے:
اول: طاہر سے مراد مسلمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ ”مشرک تو ہیں ہی ناپاک“۔
دوم: اس سے مراد وہ شخص ہو جو نجاست سے پاک ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے“۔
سوم: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جنابت سے پاک ہو۔
چہارم: طاہر سے مراد باوضو شخص ہے۔
اس حدیث میں شریعت کی رو سے طہارت کے ان سبھی معانی کے مراد ہونےکا احتمال ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی دليل يا قرينہ نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ان میں سے کسی ایک کو دیگر معانی پر ترجیح دے سکيں۔ چنانچہ اولیٰ یہی ہے کہ اس لفظ کو اس معنی پر محمول کیا جائے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہے اور وہ حدثِ اصغر سے طاہر شخص ہے۔ کیوں کہ یہ معنی یقینی ہے اور جمہورِ علماء بشمول ائمۂ اربعہ اور ان کے متبعین کے مسلک کے بھی موافق ہے۔ نیز اسی میں احتیاط ہے اور یہی اولی ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent a letter to ‘Amr ibn Hazm when the latter was the judge in Najrān. It was a long letter that contained many of the Shariah rulings, such as the rulings on inheritance, Zakah and charity, and blood money. It is a well-known text that was accepted by Muslim scholars as authentic.
"No one should touch the Qur'an unless he is pure': touch here means touching it directly without a barrier. Accordingly, holding the Qur'an with a separating medium, such as carrying it in a bag or case or turning its pages with a stick, is not included in this prohibition because there is no direct touch.
The 'Qur'an' here refers to what the Qur'an is written on, such as boards, papers, parchments and the like. It does not mean 'speech' (verbal Qur'an), because speech is not touched; rather, it is heard.
The word 'pure' has four possible interpretations. It may refer to:
1. The Muslim, as Allah says: {Indeed the polytheists are unclean/impure.} [Sūrat At-Tawbah: 28]
2. The person free of impurity, like when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about the cat: "It is not impure."
3. The one pure from Janābah.
4. The one who performed ablution.
All of these meanings of ‘pure’, according to Shariah, are possibly meant here in this Hadīth. There is no evidence to hold any of them preponderant over the others. Therefore, it is preferable to adopt the last meaning, which refers to the 'pure' as someone who has performed ablution to purify himself of minor Hadath (urinating, defecating, passing gas, sleeping). This is more certain than the other possible meanings and it is in agreement with the opinion of the majority of scholars, including the four Imāms and their followers, and it is also the safer choice.

Topics موضوعات