” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4558Sahih Muslim (HadeethEnc 4558)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
بعض نادار صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے اپنی تنگ دستی، غربت اور اپنے اہل ثروت بھائیوں کی طرح مال صدقہ کرکے بڑا اجر و ثواب حاصل نہ کر پانے اور نیکی کے کاموں میں ان کے پہلو میں کھڑے نہ پو پانے کی شکایت کی اور کہا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو وہ بھی نماز پڑھتے ہيں، ہم روزہ رکھتے ہيں تو وہ بھی روزہ رکھتے ہيں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے زائد مال میں سے صدقہ کر کے ہم سے آگے بڑھ جاتے ہيں اور ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ ہوتا نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو صدقے کی کچھ ایسی شکلیں بتا دیں، جو وہ کر سکتے تھے۔ فرمایا : کیا اللہ نے تمھارے لیے صدقہ کرنے کی راہیں نکال نہيں رکھی ہیں؟ "سبحان اللہ" کا ورد کرنا تمھارے لیے صدقے کا اجر و ثواب رکھتا ہے، "اللہ اکبر" کہنا تمھارے لیے صدقہ ہے، "الحمد للہ" کہنا صدقہ ہے، "لا الہ الا اللہ" کہنا صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، بلکہ اپنی اہلیہ سے ہم بستری کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ کو بڑا تعجب ہوا۔ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! ہمیں شہوت پوری کرنے کا بھی اجر و ثواب ملے گا؟ فرمایا : اچھا یہ بتاؤ کہ شہوت اگر وہ حرام جگہ سے پوری کرے، مثلا زنا وغیرہ میں ملوث ہو جائے، تو اسے گناہ ہوگا یا نہیں؟ بس اسی طرح اگر وہ شہوت حلال جگہ سے پوری کرتا ہے، تو اسے اجر و ثواب ملنا ہی چاہیے۔
حدیث کے فوائد
- صحابۂ کرام نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور اللہ کے نزدیک اجر عظیم اور فضل جزیل حاصل کرنے کے بے حد حریص رہا کرتے تھے۔
- خیر کے کاموں کی بہت ساری شکلیں ہیں۔ ایک مسلمان کے ذریعے سچی نیت اور اچھے ارادے سے کیا جانے والا ہر کام خیر کا کام ہے۔
- اسلام ایک آسان اور سہل مذہب ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق ایسا عمل کرسکتا ہے، جس سے اللہ کی اطاعت گزاری ہو جائے۔
- نووی کہتے ہیں : نیت سچی ہو تو مباح کام بھی نیکی کے کام بن جاتے ہیں۔ جماع بھی عبادت بن جاتا ہے، اگر نیت بیوی کا حق ادا کرنا، اللہ کے حکم کے مطابق اس کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا، صالح اولاد کی طلب، خود کو یا بیوی کو پاک دامن بنائے رکھنا اور حرام جگہ پر نظر ڈالنے، حرام چیز کے بارے میں سوچنے یا حرام کام کا ارادہ کرنے جیسی چیزوں سے بچانا یا اس طرح کے دوسرے نیک ارادے مد نظر ہوں۔
- سننے والا بہتر طریقے سے سمجھ جائے اور اس کے دل میں بات زیادہ بہتر انداز میں بیٹھ جائے، اس کے لیے مثال دیا جانا اور کسی اچھائی پر قیاس کرنا رسول ﷺ کا طریقہ ہے۔
Explanation
Some of the Prophet's poor Companions complained to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about their poverty and inability to give money in charity to attain abundant rewards, as those attained by their wealthy brothers, and to perform good deeds like them, for they pray as we pray, fast as we fast, and give charity from their surplus wealth, but we do not! The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) guided them to charities they could afford, as he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Has Allah not provided for you that which you can give as charity for yourselves?! Saying (Subhānallāh) (Glory be to Allah) is counted as charity for you; also saying (Allāhu Akbar) (Allah is the Greatest) is charity; saying (Alhamdulillāh) (praise be to Allah) is charity; and saying (La ilāha illallāh) (There is no god but Allah) is charity. (Enjoining good) is charity, and (forbidding evil) is charity, and even if one of you has sexual intercourse with his wife, there is charity. They were amazed and said: O Messenger of Allah, does one of us fulfill his desire and receive a reward for it?! He said: Do you not see that if he were to fulfill it in a forbidden way, like adultery or otherwise, would he incur a sin? Similarly, if he fulfills it lawfully, he will have a reward.