جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58223Sahih Muslim (HadeethEnc 58223)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب مسلمان بالاتفاق کسی کو حکمراں مان چکے ہوں اور ایک جماعت کی شکل میں رہ ہے ہوں اور پھر کوئی آکر ان کے حکمراں سے اس کی حکمرانی چھیننا چاہے یا مسلمانوں کی جماعت کو ایک سے زیادہ جماعتوں میں بانٹنا چاہے، مسلمانوں پر اسے روکنا اور اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، تاکہ اس کی برائی سے بچا جا سکے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے تحفظ فراہم ہو سکے۔
حدیث کے فوائد
- مسلمانوں کا حکمراں جب تک کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دے، اس کی بات سننا اور اس کے حکم کی تعمیل کرنا واجب اور اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہوگا۔
- جو مسلمانوں کے حکمراں اور ان کی جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، چاہے وہ عزت و شرافت اور حسب ونسب کے معاملے میں کتنے ہی اونچے مقام پر فائز کیوں نہ ہو۔
- اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور تفرق و اختلاف کا شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that if the Muslims agreed upon one ruler and one group, and then someone comes and wants to challenge his authority or cause disunity among the Muslims and disperse them into different groups, they are obligated to stop him and fight him to ward off his evil and prevent bloodshed among the Muslims.