صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3341Sahih صحیح
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ القَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالوَاقِعِ فِيهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلاَهَا وَبَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ المَاءِ مَرُّوا عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ، فَقَالُوا: لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا، فَإِنْ يَتْرُكُوهُمْ وَمَا أَرَادُوا هَلَكُوا جَمِيعًا، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا، وَنَجَوْا جَمِيعًا».
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے جنہوں نے ایک کشتی میں جگہ کی تعیین کے لیے قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجہ میں کچھ لوگوں نے کشتی کے اوپر والے حصے میں اور کچھ لوگوں نے نیچے والے حصے میں جگہ حاصل کی۔ جو لوگ نیچے والے حصے میں تھے، انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ لہذا انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں، تاکہ اوپر والوں کو ہم کوئی تکلیف نہ دیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو من مانی کرنے دیں گے، تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑلیں گے (اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے) تو یہ خود بھی بچ جائیں گے اور باقی لوگ بھی بچ جائیں گے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
An-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him and his father) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "The example of the one who abides by the limits prescribed by Allah and the one who transgresses them is like the example of a people who boarded a ship after casting lots. Some of them were in its upper deck and others were in its lower deck. When those in its lower deck needed water, they had to pass by those above them. So they said: 'If we could make a hole in our share so as not to bother those above us.' If they let them do what they want, they will all perish, but if they stop them, they will survive and all of them will survive."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3341

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے حدود پر قائم رہنے والوں، اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے گریز کرنے والوں اور غلط کام کرنے والوں اور سماج کی نجات پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کی مثال ایک ایسی قوم سے پیش کی جو کشتی پر سوار ہوئے اور اس بات کے لیے قرعہ اندازی کی کہ کون کشتی کے بالائی حصے میں سوار ہوگا اور کون زیریں حصے میں۔ چنانچہ کچھ لوگوں کے حصے میں بالائی حصہ آیا اور کچھ لوگوں کے حصے میں زیریں حصہ۔ (چوں کہ پانی کا انتظام بالائی حصے میں تھا، اس لیے) زیریں حصے والوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے بالائی حصے والوں سے ہوکر گزرنا پڑتا تھا۔ ایسے میں زیریں حصے والوں نے سوچا کہ اگر پانی حاصل کرنے کے لیے زیريں حصے میں ایک سوراخ کر لیں، تو بہتر ہو۔ اس طرح ہم بالا‏ئی حصے والوں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں بالائی حصے والوں نے اگر زیريں حصے والوں کا ہاتھ نہ پکڑا اور ان کو سوراخ کرنے سے نہ روکا، تو کشتی ڈوب جائے گی اور سارے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ جب کہ اگر ان کا ہاتھ پکڑ لیا، تو سارے لوگ بچ جائيں گے۔

حدیث کے فوائد

  • سماج کی حفاظت اور نجات میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی اہمیت۔
  • تعلیم دینے کا ایک طریقہ مثال پیش کرنا ہے۔ اس سے غیر محسوس چیزوں کو محسوس چیزوں کے لباس میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
  • غلط کام ہوتے ہوئے دیکھنا اور اس کا انکار نہ کرنا ایسی برائی ہے، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔
  • غلط کام کرنے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے کی چھوٹ دینا سماج کو ہلاکت کی جانب لے جاتا ہے۔
  • غلط کام اچھی نیت سے کرنے سے وہ کام صحیح نہیں ہو جاتا۔
  • مسلم سماج کی اصلاح کی ذمے داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے، کسی ایک شخص پر نہیں۔
  • مخصوص لوگوں کے گناہ کا عذاب عام لوگوں کو بھی جھیلنا پڑ سکتا ہے، اگر ان کو گناہ سے روکا نہ جائے۔
  • غلط کام کرنے والے ایسا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے غلط کام سماج کے لیے بہتر ہیں۔ ایسا منافق بھی کرتے ہیں۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) stated that the example of those who comply with the limits set by Allah, adhere to the commands of Allah, enjoin what is good, and forbid what is evil; and the example of those who transgress the limits set by Allah, refrain from what is good and commit what is evil, and the effect of this on the salvation of the society, is like the example of a people who boarded a ship and drew lots to decide who would sit in the upper part of the ship and who would sit in its lower part. Some of them got the upper part, while others got its lower part. Whenever those in the lower part wanted to bring water, they had to pass by those above them. So, those in the lower part said: If we could only make a hole in our place in the lower part to bring water therefrom without bothering those above us. If those in the upper part let them do that, the ship would sink with all of them. However, if they forbade and prevented them from doing this, both groups would be saved.

Topics موضوعات