تم سچ بولنے کو لازم پکڑو۔ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5504Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5504)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سچ بولنے کا حکم دیا اور بتایا کہ سچ بولنے کا اہتمام انسان کو دائمی عمل صالح کی جانب لے جاتا ہے اور اچھے کاموں کی پابندی انسان کو جنت تک لے جاتی ہے۔ انسان جب سری اور علانیہ طور پر مسلسل سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے، تو صدیق نام کا حق دار بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں سچ بولنے کا بہت زیادہ اہتمام کرنے والا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ سے خبردار کیا۔ کیوں کہ جھوٹ انسان کو استقامت کی راہ سے ہٹا دیتا ہے اور شر و فساد اور گناہوں کی جانب لے جاتا ہے اور اس طرح اسے جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ انسان جب مسلسل بہ کثرت جھوٹ بولتا رہتا ہے، تو اللہ کے یہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- سچ بولنا ایک عمدہ خصلت ہے، جو اکتساب اور مجاہدہ سے حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ جب انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، تو سچ بولنا اس کی طبیعت بن جاتا ہے اور وہ اللہ کے یہاں سچ بولنے والوں اور نیک لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
- جھوٹ بولنا ایک بری عادت ہے، جس کا انسان لمبے وقت تک جھوٹ بولتے رہنے اور قولی وفعلی طور اسی کو اوڑھنا بچھونا بنا لینے کی وجہ سے عادی بن جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان اس کا عادی بن جاتا ہے اور اللہ کے یہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
- صدق لفظا کا اطلاق زبان سے سچ بولنے پر بھی ہوتا ہے، جو کہ کذب کی ضد ہے، نیت کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جسے اخلاص کہا جاتا ہے، کسی خیر کی نیت میں سچے عزم پر بھی ہوتا ہے، اعمال کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جس کا کم ترین درجہ ظاہر و باطن کا برابر ہونا ہے اور احوال قلب کی سچائی پر بھی ہوتا ہے، جیسے خوف و رجا وغیرہ میں سچائی۔ ان تمام اوصاف کا حامل شخص صدیق کہلائے گا اور ان میں کچھ اوصاف کا حامل شخص صادق۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) enjoined truthfulness and informed that adherence to it leads to constant good deeds. Persistence in doing good deeds leads the doer to Paradise, and he continues to adopt truthfulness in secret and public and deserves to be labeled as most truthful – this is extreme truthfulness. Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) warned of lying and false speech, for it prompts a person to deviate from uprightness and to engage in evil, corruption, and sins; then, it leads him to Hellfire. He continues to tell more and more lies until he is recorded with Allah among the liars.