صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3768Sahih صحیح
عن عمرو بن عوف الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أبا عبيدة بن الجراح رضي الله عنه إلى البحرين يأتي بِجِزْيَتِهَا، فَقدِم بمالٍ من البحرين، فسمعت الأنصار بقدوم أبي عبيدة، فَوَافَوْا صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف، فَتَعَرَّضُوا له، فتَبسَّم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآهم، ثم قال: «أَظُنُّكُمْ سَمِعتم أن أبا عبيدة قَدِم بشيءٍ من البحرين؟» فقالوا: أجل، يا رسول الله، فقال: «أبشروا وأمِّلوا ما يَسُرُّكُم، فوالله ما الفَقرَ أخشى عليكم، ولكني أخَشى أن تُبْسَط الدنيا عليكم كما بُسِطَت على من كان قبلكم، فتَنَافسوها كما تَنَافسوها، فَتُهْلِكَكُم كما أهْلَكَتْهُمْ».
عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی آمد کے متعلق سن لیا۔چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا چکے تو لوگ رسول الله ﷺ کے سامنے آئے ۔ رسول الله ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا ، تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو۔ جس سے تمہیں خوشی ملنے والی ہے، لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا ہے کہ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے ، پس تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سےمقابلہ بازی شروع کردو اور یہ مقابلہ بازی تمہیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گی جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Amr ibn ‘Awf al-Ansāri (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sent Abu ‘Ubaydah ibn al-Jarrāh to Bahrain to collect the Jizyah (yearly tax), and he returned from Bahrain with money. The Ansār heard the news of Abu ‘Ubaydah's return and they gathered for the Fajr prayer with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). After he had prayed and left, the Ansār presented themselves before him. When he saw them, he smiled and said: "I believe you heard that Abu ‘Ubaydah has returned from Bahrain with something." They replied: "Yes, O Messenger of Allah." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Rejoice, and hope for that which will please you. By Allah, it is not poverty that I fear for you. What I fear for you is that the world expands (with lots of wealth) for you just as it did for the people before you. Then you will compete as they competed, then it will destroy you just as it destroyed them."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3768

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رسول اللہﷺ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ لینے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس مدینہ پہنچے اور انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔جب آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد رخ پھیرا تو سب آپ کے سامنے آگئے اس پر آپ ﷺ مسکرا دیے کیونکہ وہ مال کی جستجو میں آئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: لگتا ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے واپس آ گئے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم نے یہ سنا تھا یعنی اپنا حصہ لینے کے لئے ہم آئے ہیں۔
چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اس شے کی بشارت دی جو انہیں خوش کرنے والی تھی۔
آپ ﷺ نے انہیں یہ بتایا کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں فقر کا اندیشہ نہیں ہے کیونکہ غریب شخص عام طور پر امیر شخص سے زیادہ حق کے قریب ہوتا ہے ۔ بلکہ اگر اندیشہ ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں اور وہ اس کے حصول میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی شروع کردیں ۔ اس وقت انسان کو جو کچھ مل رہا ہوگا اسے وہ کافی نہیں سمجھے گا بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ کی حرص رکھےگا اور اسے کوئی فکر نہیں ہوگی کہ اسے مال کس طریقے سے مل رہا ہے اور نہ ہی وہ حلال و حرام کی پرواہ کرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی مقابلہ آرائی مذموم ہے جو دنیا کی رغبت دلائے اور آخرت سے بے گانہ کردے اور اس میں پڑنے والا شخص اسی طرح ہلاکت کا شکار ہوجائے جیسے اس سے پہلے لوگ ہوئے تھے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent Abu ‘Ubaydah (may Allah be pleased with him) to Bahrain to collect the tax from them. When he returned to Madīnah and the Ansār heard about his return, they went to the Prophet and gathered waiting for him at the Fajr prayer. After the Prophet prayed and started to leave, the Ansār presented themselves to him and he smiled because he knew they wanted some of the money. He said to them: "Perhaps you've heard that Abu ‘Ubaydah has returned?" They said: "Yes, O Messenger of Allah," meaning we have come to receive our share of the money. So the Prophet gave them glad tidings that made them happy. He informed them that he does not fear poverty for them, because most of the time the impoverished person is closer to the truth than the wealthy one. Rather, he feared for them that the pleasures of the worldly life would be given to them, and then they would compete among themselves to attain them. A person in such a state (of competition) is never satisfied with what he has and he always wants more and more by any means. He does not care whether he acquires it through lawful or unlawful means. There is no doubt that this is a type of dispraised competition which attaches the person to this world and distances him from the Hereafter (and remembrance of it). So, as a result, the person is destroyed just as the previous nations were destroyed for the same reason.

Topics موضوعات