تم عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود ہی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10411Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10411)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک دفعہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزریں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ :یہ حولاء بنت تویت رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ ساری رات نماز پڑھتی رہتی ہیں سوتی ہی نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اُن کے پوری پوری رات کے قیام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”صرف اتنا ہی عمل کرو جتنی طاقت رکھتے ہو“ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کو اتنے کثیر عمل سے روکا کہ جو مشقت کا باعث ہو اور مستقبل میں جس کے کرنے سے عاجز آ جائے اور اس پر مداومت نہ کرسکے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہمیں اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنی طاقت ہو۔ ”اللہ کی قسم! اللہ (دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ہی اکتا جاؤ“ یعنی اللہ عزوجل تمہارے عمل کے مطابق تمہیں ثواب عطا کر دے گا جب تک اس عمل پر ہمیشگی رہے گی اور جب بندہ کسی عمل سے اکتا جائے، تھک جائے، اس کو منقطع کر دے اور ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ثواب کے سلسلے کو منقطع کر دیتاہے۔ کیوں کہ بندے کو اس کے عمل کے مطابق جزا ملتی ہے اور اگر بغیر عذر، مرض اور سفر کے کسی عمل کو چھوڑ دیا جائے تو اس کا ثواب بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اکتاہٹ کا راجح معنی ہے جو اس حدیث کے ظاہر سے سمجھ آرہا ہےجس سے اللہ متصف ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ہماری اکتاہٹ کی طرح نہیں ہے، کیوں کہ ہماری اکتاہٹ تھکاوٹ اور سستی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی اکتاہٹ ایک ایسی صفت ہے جس سے اللہ عزوجل مختص ہےاور اس کے شایان شان ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو تھکاوٹ اور سستی نہیں لاحق ہوتی۔
Explanation
Al-Hawlā’ bint Tuwayt (may Allah be pleased with her) was with the Mother of the Believers ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her), and she left when the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered upon ‘Ā’ishah. ‘Ā’ishah said to him: This woman does not sleep at night; rather, she spends it in prayer. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said, disapproving of her being too hard on herself: She does not sleep at night! Engage in righteous deeds only as much as you can maintain regularly. By Allah, Allah does not get tired of rewarding His righteous, obedient servants for their acts of obedience, good deeds, and righteous actions until they grow weary and stop doing them.