صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
4246Sahih صحیح
عن أبي عبد الله خباب بن الأرت رضي الله عنه قال: شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً له في ظِلِّ الكعبة، فقلنا أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لنا، ألا تدعو الله لنا؟ فقال: «قد كان من قبلكم يُؤخذ الرجل فيُحفر له في الأرض، فيُجعل فيها، ثمَّ يُؤتى بالمِنْشَارِ فيوضع على رأسه فيُجعل نصفين، ويُمشط بأمشاطِ الحديد ما دون لحمه وعظمه، ما يَصُدُّهُ ذلك عن دينه، والله لَيُتِمَّنَّ الله هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله والذئب على غَنَمِه، ولكنكم تستعجلون». وفي رواية: «هو مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وقد لقينا من المشركين شدة».
ابو عبد الله خباب بن ارت رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے سایے میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم نے آپ ﷺ سے اپنی حالت زار بیان کی اور عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کیوں نہیں مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کراس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اللہ اسلام کو مکمل کرے گا اور یہ صورت حال ہو گی کہ ایک سوار صنعا سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو گا اور بکریوں پر سواے بھیڑیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا)۔ لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ ایک چادر پرٹیک لگاے تشریف فرما تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے بہت تکلیف کا سامنا تھا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu ‘Abdullāh Khabbāb ibn al-Aratt (may Allah be pleased with him) reported: We complained to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was lying in the shade of the Ka‘bah, placing his cloak under his head. We said: "Will you not supplicate for our victory (over our opponents)? Will you not invoke Allah for us?" He replied: "Among those who came before you, a man would be seized and held in a pit dug for him in the ground, and he would be sawed into two halves from his head, and his flesh would be torn away from his bones with iron combs, and none of this would turn him away from his religion. By Allah, Allah will bring this matter (Islam) to its completion until the traveler will walk from Sana'a to Hadramaut fearing none except Allah and the wolf for his sheep, but you are rushing things." In another narration: "Having made a pillow from his cloak, and we had faced much persecution from the polytheists."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4246

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں خباب رضی اللہ عنہ اس اذیت کا حال بیان کر رہے ہیں، جس کاسامنا مسلمان مکہ میں کفار قریش کی طرف سے کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کے پاس شکایت کے لیے آئے۔ آپ ﷺ اس وقت کعبہ کے سائے تلے ایک چادر پر ٹیک لگاےتشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ہم سے پہلی امتوں کے لوگوں کی دین کے سلسلے میں جو آزمائش ہوئی وہ اس سے بڑی تھی، جو ان لوگوں پر آئی ہوئی ہے۔ (پہلے تو) ایسا ہوتا کہ کسی فرد کے لیے گڑھا کھود کر اسے اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر آری لا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئےجاتے۔ اس کی کھال اور ہڈیوں کے مابین لوہے کی کنگھیاں پھیری جاتیں۔ یہ بہت ہی بڑی اذیت تھی۔
پھر نبی ﷺ نے قسم اٹھائی کہ اللہ سبحانہ و تعالی ضرور اس دین کے معاملے کو پورا کریں گے، یعنی رسول اللہ ﷺ جو اسلام کی دعوت لائے ہیں وہ مکمل ہو کر رہے گی۔ یہاں تک کہ (اس قدر امن و شانتی کا ماحول ہوگا) کہ سوار صنعا سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس دوران اسے اللہ کے سوا اور اپنے جانوروں پر بھیڑیے کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو جلد بازی کو چھوڑ دینے کی تلقین فرمائی اور فرمایا: ”لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو“ یعنی صبر کرو اور اللہ کی طرف سے کشادگی آنے کا انتظار کرو۔ اللہ تعالی عنقریب اس کام کو مکمل کردیں گے۔ پھر ویسا ہی ہوا، جیسا آپ ﷺ نے قسم کھا کر کہا تھا۔

Explanation

In this Hadīth, Khabbāb (may Allah be pleased with him) tells the story of the suffering that the Muslims faced from the disbelievers of the Quraysh in Makkah. They came complaining to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) while he was lying in the shade of the Ka‘bah placing his head on his cloak. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explained that those who lived before us experienced severer trials regarding their religion. A pit would be dug for one of them and he would be thrown into it; then a saw would be brought to the top of his head and he would be sawed into two halves; and his flesh would be torn away from his bones with iron combs, which was extreme suffering. Then he swore that Allah, the Almighty, would complete this matter, meaning that He would complete the message of Islam that the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) had brought. This would be done in such a way that the one traveling from Sana'a to Hadramaut would fear none except Allah and the wolf for his sheep. Then he guided his noble Companions to stop rushing things, saying: "But you are rushing things," meaning: have patience and await relief from Allah, for Allah will surely complete this matter, and things went just as the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) swore they would go.

Topics موضوعات