صحیح مسلم
Sahih Muslim

ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8386Sahih صحیح
عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قال: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» فَرَجَعَ، ثُمَّ صَلَّى.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتا یا: ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: ‘Umar ibn al-Khattāb said to me: A man performed ablution and left a small part on his foot equal to the size of a nail unwashed. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw that and said: "Go back and perform your ablution properly." He performed it again and prayed.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8386

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ ایک شخص پورا وضو کر چکا ہے، لیکن اس کے قدم پر ایک ناخن کے برابر جگہ سوکھی رہ گئی ہے، جہاں وضو کا پانی پہنچا نہیں ہے۔ لہذا آپ نے وضو میں رہ جانے والی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ واپس جاؤ، وضو اچھی طرح اور مکمل انداز میں کرو اور سارے اعضائے وضو تک پانی پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ شخص واپس گیا، مکمل وضو کیا اور اس کے بعد نماز پڑھی۔

حدیث کے فوائد

  • اچھے کام کا حکم دینے اور جاہل و غافل کی رہ نمائی کرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت۔ خاص طور سے اس وقت، جب منکر کے نتیجے میں انسان کی عبادت ضائع ہو جائے۔
  • وضو کے اعضا کو پورا پورا دھونا ضروری ہے۔ جس نے کسی عضو کے تھوڑے سے حصے کو بھی سوکھا رہنے دیا، اس کا وضو نہیں ہوگا اور زیادہ وقت گزر جانے پر وضو از سر نو دوبارہ کرنا پڑے گا۔
  • اچھی طرح وضو کرنے کی مشروعیت۔ اچھی طرح وضو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کو مکمل اور پورے طور اسی طرح دھویا جائے، جس طرح شریعت نے حکم دیا ہے۔
  • دونوں قدم اعضائے وضو میں داخل ہیں۔ ان کا مسح کر لینا کافی نہيں ہے۔ دھونا ضروری ہے۔
  • وضو کے اعضا کو اس طرح لگاتار دھونا چاہیے کہ ہر عضو کو اس سے پہلے والے عضو کے خشک ہونے سے پہلے دھو لیا جائے۔
  • عدم واقفیت یا بھول جانے کی وجہ سے کوئی واجب ساقط نہیں ہوتا۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ انسان پر گناہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے عدم واقفیت کی بنا پر مکمل وضو نہیں کیا، تو آپ نے اس سے واجب یعنی وضو کو ساقط نہیں کیا، بلکہ اسے دوبارہ وضو کرلینے کا حکم دیا۔

Explanation

‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw a man who had just finished performing ablution leaving a spot on his foot, the size of a fingernail, unwashed. He said to him while pointing to the place that was not properly washed: Go back and perform your ablution properly and perfectly and wash each organ properly with water. So, the man went back, performed ablution perfectly, and then prayed.

Topics موضوعات