رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10543Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 10543)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ جماع کرنے کے بعد پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جایا کرتے تھے، نہ وضو کرتے اور نہ ہی غسل فرماتے، یہاں تک کہ اپنی شرم گاہ کو بھی نہیں دھوتے تھے; کیونکہ حدیث میں "ماء" کا لفظ نکرہ ہے اور سیاقِ نفی میں استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ پانی کے ہر قسم کے استعمال کو عام ہے۔
دوسرا احتمال: یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل کے لیے پانی کو نہ چھوتے تھے نہ کہ وضوء کے لیے۔یہ مفہوم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے موافقت رکھتا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ بعد ازجماع سونے کے لیے اور کھانے، پینے اور دوبارہ جماع کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے تھے۔
ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جس میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بشرطیکہ وہ وضوء کرلے“۔ متفق علیہ۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنبی شخص کو رخصت دی کہ جب اس کا کھانے پینے یا سونے کا ارادہ ہو تو نماز کے لئے کیا جانے والا وضو کر لے۔۔ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم اس تاویل کو حدیث کا عموم مسترد کرتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: نبی ﷺ جواز کو بیان کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل بھی پانی کو نہیں چھوتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ اگر ہمیشہ ایسا کیا کرتے تو اس سے اس کے فرض ہونے کا وہم ہوتا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانی اورسہولت پیدا کرنے کی غرض سے بعض اوقات پانی کے استعمال کو چھوڑ دیا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) used to sleep after having had intercourse without having water touch his skin, neither the water of ablution, nor the bathing water, nor water even to wash his private parts, since the word 'water' here is mentioned in a general sense, so it includes all the uses of water.
The second possibility is that it means that he did not touch the water of ritual bath, not necessarily the water of ablution. This agrees with the Hadīths of the two Sahīhs that clearly state that he used to wash his private parts and perform ablution (when in a state of Janābah) before he would sleep, eat, drink, or have intercourse. One of such Hadīths is the Hadīth of Ibn ‘Umar in which ‘Umar said: "O Messenger of Allah, could any of us sleep while in a state of Janābah?" He said: "Yes, as long as he performs ablution." [Al-Bukhāri and Muslim]
‘Ammār ibn Yāsir reported: "The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) allowed the one in a state of Janabah to eat, drink, or sleep after having performed ablution the same way one does before praying" [Ahmad and At-Tirmidhi]. However, the generality of the Hadīth refutes this interpretation.
It is better to say that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would not touch water sometimes in order to clarify the permissibility of doing this, for if he had done that regularly, it would have been thought to be obligatory, and this was all done out of facilitation and alleviation for the Ummah.