لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10883Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 10883)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned those who raise their eyes to the sky during prayer, whether during supplication or other times. His rebuke became more severe, and he (may Allah's peace and blessings be upon him) threatened that those who do so might have their eyesight snatched away swiftly, to the point that they would not even realize it until they had lost the blessing of sight.