”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5811Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5811)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم گناہ، شرک اور لوگوں کا حق مار کر ظلم کے راستے پر آگے بڑھتے جانے سے خبردار کر رہے ہيں۔ کیوں کہ اللہ تعالی ظالم کو فورا سزا دینے کی بجائے اسے مہلت اور ڈھیل دیتا ہے اور اس کی عمر اور دھن دولت کو بڑھاتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ توبہ نہیں کرتا، تو اس کا ظلم بڑھ جانے کی وجہ سے اسے پکڑ لیتا ہے اور پھر چھوڑتا نہیں ہے۔
پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]
حدیث کے فوائد
- عقل مند انسان کو چاہیے کہ فورا توبہ کر لے اور اگر ظلم سے باز نہيں آتا، تو اللہ کے مکر سے مامون نہ رہے۔
- اللہ تعالی ظالموں کو سزا دینے کی بجائے مہلت دیتا ہے، تاکہ ان کو توبہ کرنے کا موقع مل سکے اور توبہ نہ کرنے کی حالت میں ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے۔
- ظلم قوموں پر اللہ کی سزا کے نازل ہونے کا ایک سبب ہے۔
- جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے، تو اس میں کچھ نیک لوگ بھی ہو سکتے ہيں۔ ایسے نیک لوگ قیامت کے دن اپنی نیکی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس بات سے ان کو کوئی نقصان نہ ہوگا کہ دنیا میں سب کے ساتھ ان کو عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warns against persistent wrongdoing by committing sins, polytheism, and injustice to people about their rights, for indeed Allah Almighty gives respite to the oppressor and endows him with a long lifetime and abundant wealth and does not hasten to punish him. But, if he does not repent, He seizes him and does not release him due to his persistent wrongdoing.
Then, he (may Allah's peace and blessings be upon him) recited: {Such is the seizing of your Lord when He seizes the towns that are given to wrongdoing; His seizing is surely painful and severe.} [Surat Hūd: 102]