یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
پھر اسی دروازے سے اگلے جمعہ کے دن ایک شخص داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسے ہم سے روک دے۔ کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»۔ کہا: چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے۔
شریک نے کہا: میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3174Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3174)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک اعرابی جمعہ کے دن نبی ﷺ کی مسجد میں اس مغربی دروازے سے داخل ہوا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف تھا، جبکہ نبی ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ اس شخص نے نبی ﷺ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو گئے، اور ان جانوروں کے مرنے یا بھوک سے کمزور ہو جانے کے سبب راستے بند ہو گئے ہیں، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نہ تھا، اور ہمارے اور جبلِ سلع، جو مسجد کے مغرب میں واقع ہے اور جہاں سے بادل اٹھتے ہیں، کے درمیان کوئی گھر یا مکان نہیں تھا جو اسے دیکھنے میں حائل ہوتا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اس کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک گول بادل نمودار ہوا، جب وہ مدینہ کے آسمان کے وسط میں پہنچا تو پھیل گیا، پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے بارش کے سبب اگلے جمعہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ کو وہی شخص اسی دروازے سے داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے بارش روک دے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور پھر یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! بارش کو ہمارے اردگرد پھیر دے اور ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں جیسی بلند جگہوں پر، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ بارش والا بادل چھٹ گیا، اور ہم دھوپ میں چلنے لگے۔
حدیث کے فوائد
- رزق کی طلب میں اسباب اختیار کرنا، جیسے دعا کرنا اور زمین پر کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں۔
- بارش طلب کرنے کے لیے یہ نبوی دعا پڑھنا مستحب ہے۔
- بارش سے نقصان ہونے پر استصحاء -یعنی موسم صاف ہونے اور بارش رکنے کی دعا کرنا- جائز ہے، (ایسی حالت میں) بارش کو ٹیلوں، پہاڑیوں اور وادیوں کے نشیب میں باقی رکھنے کی دعا کی جائے؛ کیونکہ یہ جگہیں کاشت کرنے اور جانور چَرانے کے لیے زیادہ موافق ہیں۔
- ان زندہ اور موجود لوگوں سے دعا کی گزارش کرنا جائز ہے جن کے بارے میں نیکی اور تقوی کا گمان ہو، اور یہی جائز توسل ہے۔ البتہ کسی مخلوق کی جاہ کا وسیلہ لینا جائز نہیں، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ؛ کیونکہ یہ شرک کے وسائل میں سے ہے۔
- دعا میں الحاح وتکرار کی مشروعیت۔
- جمعہ کے دن ضرورت کے وقت خطیب سے بات کرنا جائز ہے۔
- بارش نازل کرنے اور اسے روک لینے میں اللہ کی ظاہر وباہر قدرت کا ظہور۔
- نبی ﷺ کی اس حکمت کا بیان کہ آپ نے بارش کو نقصان دہ جگہ سے روکنے کی دعا فرمائی، نہ کہ اس جگہ سے جہاں نقصان نہ ہو۔
- خطبہ میں بارش کی دعا کرنے کی مشروعیت
- دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانا؛ کیونکہ اس میں عاجزی اور محتاجی کا معنی پایا جاتا ہے، اور ہاتھوں میں نوازش طلب کرنے کا معنی بھی پایا جاتا ہے، اس موقع پر دونوں ہاتھ اٹھانے پر علماء کا اجماع ہے۔
- نبی ﷺ کی نبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بارش لانے اور اسے روکنے کے معاملے میں آپ کی دعا فی الفور قبول ہوئی۔
Explanation
A Bedouin entered the Prophet's Mosque on a Friday through a gate on the west side of the mosque, facing the house of ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him), while the Prophet (ﷺ) was standing and delivering the sermon. The man faced the Prophet (ﷺ) and said: O Messenger of Allah, the livestock have perished, and the roads have been cut off because the animals that carry people have died or grown too weak from hunger. So pray to Allah to send us rain. So, he (ﷺ) raised his hands and said: O Allah, send us rain. O Allah, send us rain. O Allah, send us rain. Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) said: By Allah, we could not see even a small patch of cloud in the sky, and between us in the mosque and Mount Sal‘—to the west of the mosque, from where clouds usually come—no house or building was obstructing our view. Anas (may Allah be pleased with him) said: Then a cloud rose from behind it, round like a shield—a small disc—and when it reached the middle of the sky over Madīnah, it spread out and then began to rain. By Allah, we did not see the sun because of the rain until the following Friday, when that man entered through the same gate while the Prophet (ﷺ) was standing and delivering the sermon. The man faced him and said: O Messenger of Allah, the properties have perished, and the routes have been cut off, so pray to Allah to withhold the rain from us. He said: So the Prophet (ﷺ) raised his hands and said: O Allah, let the rain fall around us and not upon us. O Allah, on the highlands, the small mountains, the valleys, and the places where trees grow. Anas said: The rain cloud dispersed, and we went out walking in the sunlight.