نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے مارو۔
قال أبو هريرة: فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف، قال بعض القوم: أخزاك الله، قال: «لا تقولوا هكذا، لا تُعِينُوا عليه الشيطان».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3262Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 3262)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا معنی: صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبیﷺ کے پاس ایک آدمی کو لے کر آئے جس نے شراب نوشی کی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اسے مارا۔ ان میں سے کچھ نے اسے مارنے کے کسی دوسرے آلے کے استعمال کے بغیر خالی اپنے ہاتھ سے مارا، تو کسی نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور یہ اسے عبرتناک سزا دینے کے طورپر تھی، اور کسی نے اسے اپنے کپڑے سے مارا۔ جبکہ انہوں نے کوڑے کا استعمال نہیں کیا جو کہ مارنے سے متعلق شرعی حد (کے نفاذ) کا آلہ ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے بیس آدمیوں کو حکم دیا تو ان میں سے ہر ایک نے اسے چھڑی اور جوتے سے دو دو ضرب لگائے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ کوڑوں کی تعداد چالیس ہے، اور خلفائے راشدین سے اس پر جو اضافہ وارد ہے وہ بطور تعزیر ہے جو امام وقت (حاکم) کی صوابدید پر منحصر ہے۔
پھر جب لوگ اسے مار نے سے فارغ ہوگئے تو ان میں سے کسی نے اسے یہ بددعا دی کہ: ”اللہ تجھے رسوا کرے“ یعنی اسے رسوائی کی بددعا دی، جس کا مطلب لوگوں کے بیچ ذلت وخواری، اہانت و حقارت اور فضیحت ورسوائی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”ا سے اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ کیونکہ جب لوگ اسے ذلت ورسوائی کی بددعا دیں گے تو بسا اوقات ان کی بددعا قبول ہوسکتی ہے، تو اس طرح شیطان اپنی مراد کو پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ نیز اس لیے تاکہ گناہ گار سے نفرت نہ کی جائے جبکہ اس پرحد کا نفاذ ہو چکا ہے۔
Explanation
The Companions (may Allah be pleased with them) brought to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) a man who was drinking alcohol. The Prophet ordered them to beat him without specifying the number of beats, so the Companions started beating him, some with their bare hands, some with their sandals to humiliate him, and others with their clothes. They did not use a whip which is used for a prescribed punishment. Then after they ceased beating him; one of them made a supplication against him, saying: "May Allah disgrace you", asking Allah to humiliate and expose him among the people. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) instructed them not to say so as that would be helping the devil against him. If they supplicated Allah to disgrace him, perhaps Allah would answer their supplication, and the devil would thus achieve his purpose and overpower the man. Also, this supplication may alienate the man after he had received the punishment.