وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3529Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3529)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں، جو اپنی کم سنی کی وجہ سے ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ بچے نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاقِ کریمہ، اور آپ کی بے پناہ تواضع۔
- حسن سلوک، تواضع اور چھوٹوں کے ساتھ نرمی برتنے، بچوں کی عزت کرکے اور انہیں گود میں بٹھا کر بڑوں کی دل جوئی کرنے، وغیرہ کی ترغیب۔
- لڑکے کا پیشاب نا پاک ہے خواہ وہ رغبت کے ساتھ کھانا نہ کھاتا ہو۔
- نبی ﷺ کے اس فعل کو نَضْح (چھڑکاؤ) کہا جاتا ہے، یہ اس دودھ پیتے لڑکے کے ساتھ خاص ہے جو ابھی کھانا نہ کھاتا ہو۔ البتہ لڑکی کے پیشاب کو دھونا واجب ہے، چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
- شیرخوار لڑکے کے پاخانے کو دیگر ناپاکیوں کی طرح دھونا لازم ہے۔
- غسل صرف جسم تک پانی پہنچا دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ غسل کے لیے اس کے علاوہ بھی کچھ کام مشروط ہیں۔
- بہتر یہ ہے کہ نجاست کی جگہ کو فوراً پاک کر لیا جائے، تاکہ ناپاکی سے جلد طہارت حاصل ہو اور انسان اسے بھول نہ جائے۔
Explanation
’Umm Qays bint Mihsan (may Allah be pleased with her) brought her son, who had not yet eaten solid food for being too young, to the Prophet (ﷺ). He (ﷺ) seated the boy on his lap, and the boy urinated on the Prophet's garment. Thereupon, the Prophet (ﷺ) asked for some water, sprinkled it over his garment, and did not wash it.