آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3653Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 3653)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ اپنے صحابہ سے دریافت کر رہے ہیں کہ تم میں ایسا کون شخص ہوگا جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ یعنی تم میں سے کون شخص ہے جسے اپنے بعد اپنے وارث کی ملکیت میں آنے والا مال اس مال سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے ہر کسی کو اس کا اپنا مال ہی زیادہ محبوب ہے۔ یعنی ہر شخص اسی مال کو زیادہ محبوب رکھتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اسے تصرف مطلق حاصل ہوتا ہے بنسبت کسی دوسرے کے مال کے ۔ کیونکہ جو مال اس کی ملکیت ہے وہ اس کی خواہشات و رغبات کے پورا ہونے کا ایک ذریعہ ہوتاہے۔
”آدمی کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا“ اس سے مراد وہ مال جسے انسان اپنی زندگی میں اپنے اوپر صرف کرتاہے یا پھر نیک اعمال میں لگاتا ہے جیسا کہ حج یا وقف یا پھر کسی مدرسے ، مسجد اور ہسپتال کی تعمیر میں صرف کرتا ہے یا پھر خود اپنے آپ پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتاہے ۔ یہی اس کا حقیقی مال ہوتاہے جسے وہ روز قیامت اپنےسامنے پائے گا (یعنی اسے خرچ کرنے کا اجر اسے ملے گا) ۔ باقی رہا وہ مال جسے وہ اپنی زندگی میں جمع کر کرکے رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے وہ اس کے وارثوں کا مال ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
اس باب کے معنی میں وہ روایت بھی ہے جسے امام مسلم نے عبداللہ بن شِخیر رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ سورہ ’أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‘ پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا ابن آدم میرا مال میرا مال کی رٹ لگاتا ہے، کہا ابن آدم تیرا مال اس کے سوا اور کیا ہے جسے تونے کھا پی کر ختم کردیا، یا پہن کر اسے بوسیدہ کردیا یا اسے صدقہ کرکے چلتا بنا۔
تاہم اس کا یہ معنی بھی نہیں ہے کہ انسان اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے پھر وہ اور اس کے بچے لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے پھریں، بلکہ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنے بعد اپنے وارثین کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اسی طرح اپنے ذاتی اخراجات، نیز اپنے اہل و عیال جیسے بیوی بچے اور والدین کے صرفے سے جو رقم زائد ہو اُس سے اپنی آخرت کے لیے بھی زادِ راہ جمع کرنے کی کوشش کرے، اس لیے اُن پر خرچ کرنا واجب ہے اگر اُن پر خرچ نہیں کرے گا تو انسان گناہ گار ہوگا، اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کی روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اے ابن آدم! اگر تو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اُسے روکے رکھتا ہے تو تیرے حق میں بُرا ہے“۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) asked his Companions which of them loved the wealth of their heirs, which they would inherit from them after their death, more than the wealth they own in their lifetime. The Companions replied that there was none among them who did not love his own wealth, which was in his possession and over which he had absolute control, more, because with the wealth that he possessed can fulfill his desires and aspirations.
The Prophet then told them that a person's own wealth is that which he spends during his lifetime on righteous deeds, such as Hajj; an endowment fund; building a school, a mosque, or a hospital; or spending on himself and his family. This indeed is his real wealth, which he will find benefiting him on the Day of Resurrection. As for what he saves during his lifetime and withholds from spending for the sake of Allah, this wealth belongs to his heirs and he has no share in it.
There is another Hadīth with a similar meaning that Imām Muslim narrated on the authority of ‘Abdullāh ibn Ash-Shikhkhīr (may Allah be pleased with him). He said: “I went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and he was reciting: {Competition in increase of [world benefits] diverted you} [Sūrat At-Takāthur: 1]. Then he said: "The son of Adam says: 'My wealth, my wealth.' Do you, son of Adam, own anything of your wealth except what you eat and consume, or what you wear and wear out, or what you give in charity…?"
This Hadīth does not mean that one should spend all his money for the sake of Allah and leave his family poor, to beg from other people. What is meant is that a person, in as much as he strives to save money for his heirs after him, should also strive to earn rewards that would benefit him in the Hereafter, by spending from the surplus he has after providing for his wife, children, and parents. Spending on them is obligatory on him, if he did not do so, he would be sinful. The proof for this is the following Hadīth reported by Abu Umāmah (may Allah be pleased with him): “The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ‘O son of Adam, if you spend the surplus, it is good for you; and if you withhold it, it is evil for you.'" [Muslim]