”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کردیا ہے”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4556Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4556)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فتح مکہ کے سال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سرزمین مکہ میں فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا مردار کی چربیوں کو بیچنا حلال ہے؟ کیوں کہ اسے کشتیوں پر مَلا جاتا ہے اور کھالوں پر اس کا روغن چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: حلال نہيں ہے۔ مردار کی چربی کو بیچنا بھی حرام ہے۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ یہود کو تباہ اور ان پر لعنت کرے۔ اللہ نے جب ان پر چربی حرام کی، تو وہ لوگ اس کو پگھلا کر اس کا تیل بیچنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے۔
حدیث کے فوائد
- نووی کہتے ہيں : مردار، شراب اور سور، ان میں سے ہر ایک کی خرید و فروخت حرام ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
- قاضی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چيز کا کھانا اور اس سے استفادہ جائز نہيں ہے، اسے بیچنا اور اس کی قیمت کھانا بھی جائز نہيں ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں ذکر کئے گئے چربی کی مثال سے واضح ہے۔
- ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کا سیاق اکثر علما کی اس توضیح کو تقویت دیتا ہے کہ آپ کے قول "هو حرام" سے مراد خرید و فروخت ہے، انتفاع نہيں۔
- کسی حرام کو حلال کرنے کے لیے اپنایا گیا ہر حیلہ باطل ہے۔
- نووی کہتے ہیں: علما نے کہا ہے کہ مردار کو بیچنے کی حرمت کے عموم میں یہ داخل ہے کہ جب جنگ کے میدان میں کسی کافر کا قتل ہو جائے، لاش مسلمانوں کے قبضے میں ہو اور کفار اسے خریدنا یا اس کا کوئی عوض دینا چاہیں، تو اسے بیچنا یا اس کا عوض لینا حرام ہوگا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نوفل بن عبداللہ مخزومی کو جنگ خندق کے موقعے پر مسلمانوں نے قتل کر دیا اور کافروں نے اس کی لاش حاصل کرنے کے لیے دس ہزار درہم دینے کی پیش کش کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے رقم نہيں لی اور اس کے بغیر ہی لاش ان کے حوالے کر دی۔
Explanation
Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say in the year of the Conquest, while he was in Makkah: Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead animals, pork, and idols. It was said: O Messenger of Allah, is it permissible to sell the fat of dead animals? It is used to coat ships and daub hides, and people light their lamps with it. He said: No, selling it is forbidden. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: May Allah destroy the Jews and curse them. When Allah forbade them the fat of animals, they melted it and then sold its fat and consumed its price.