صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10098Sahih صحیح
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ: «يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، ثَلَاثًا، قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قَالَ: «إِذًا يَتَّكِلُوا». وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: As the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was riding a mount with Mu‘ādh behind him, he said: "O Mu‘ādh ibn Jabal!" He replied: "Here I am at your service, O Messenger of Allah." He again said: "O Mu‘ādh!" Mu‘ādh replied: "Here I am at your service, O Messenger of Allah." This was said three times. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There is no one who bears witness that there is no god but Allah and that Muhammad is His slave and Messenger, sincerely from his heart, except that Allah will make him forbidden to Hellfire." He said: "O Messenger of Allah, should I not inform the people of that so that they may rejoice?" He replied: "Then they would rely on this alone." Mu‘ādh narrated this Hadīth at the time of his death to avoid the sin of concealing knowledge.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10098

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ان کا نام لے کر تین بار کہا : اے معاذ! آپ کے ان کو تین بار پکارنے کا مقصد دراصل آگے کہی جانے والی بات کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔

چنانچہ ہر بار معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کی ہر آواز پر کھڑا ہوں اور اسے اپنے لیے سرمايۂ افتخار سمجھتا ہوں۔

چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جو بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور پھر وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔

یہ سننے کے بعد معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ یہ حدیث لوگوں کو سنا دیں، تاکہ لوگوں میں مسرت کی لہر دوڑ جائے۔

لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں اور عمل کے میدان میں پیچھے رہ جائیں۔

لہذا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی کو نہیں بتائی۔ موت سے پہلے اس ڈر سے بتا دی کہ کہیں علم چھپانے کا گناہ سر پر لد نہ جائے۔

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تواضع دیکھیے کہ معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔
  • یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلیم دینے کا ایک طریقہ سامنے آتا ہے کہ آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک سے زیادہ بار پکارا، تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ کی بات سنیں۔
  • اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کی ایک شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والا سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ گواہی دے۔ اس میں جھوٹ یا شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
  • اہل توحید جہنم کی آگ میں ہمیشہ نہيں رہيں گے۔ اپنے گناہوں کے سبب اس میں داخل ہو بھی جائیں، تو پاک صاف ہونے کے بعد وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔
  • سچے دل سے مذکورہ دونوں گواہی دینے والے کی فضیلت۔
  • بعض حالات میں کسی حدیث کو بیان نہ کرنا بھی جائز ہے، جب اسے بیان کرنے کے نتیجے میں کوئی برائی سامنے آئے۔

Explanation

Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) was riding on a mount behind the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who called him: O Mu‘ādh! He repeated the call three times to show the significance of what he was about to say.

Meanwhile, Mu‘ādh was replying: "Here I am at your service, O Messenger of Allah." That's I am answering your call, O Messenger of Allah, and seek happiness in answering you.

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that if anyone bears witness that there is no god but Allah – which means that none is truly worthy of worship except Allah – and that Muhammad is the Messenger of Allah, sincerely from his heart, not lying, and then he dies in this state, Allah will make him forbidden to Hellfire.

Mu‘ādh (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) whether he could tell people about that so that they would rejoice and feel hopeful.

But the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) feared that they might solely rely upon that and their good deeds might decrease.

So, Mu‘ādh did not narrate this Hadīth to anyone, except at the time of his death, fearing that he would incur the sin of concealing knowledge.

Topics موضوعات