صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ہم خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6011Sahih صحیح
عن قيس بن أبي حازم، قال: دخلنا على خباب بن الأرت - رضي الله عنه - نعودُه وقد اكْتَوى سبعَ كَيّات، فقال: إن أصحابنا الذين سَلفوا مضوا، ولم تَنقصهم الدنيا، وإنّا أصبنا ما لا نجد له مَوضعاً إلا التراب ولولا أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهانا أن ندعوَ بالموت لدعوتُ به. ثم أتيناه مرة أخرى وهو يبني حائطاً له، فقال: إن المسلم ليُؤجَر في كل شيء يُنفقه إلا في شيء يجعلُه في هذا التراب.
قيس بن حازم رحمہ اللہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔ انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھی جو پہلے وفات پا چکے وہ اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہمیں مٹی کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ملتی۔ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے ماسوا اس خرچ کرنے کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے (عمارتیں وغیرہ بنواتا ہے۔)
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Qays ibn Abi Hāzim reported: We visited Khabbāb ibn al-Aratt (may Allah be pleased with him) when he was ill and he had been cauterized in seven places. He said to us: "Our companions who died (during the lifetime of the Prophet) left (this world) without having their rewards reduced due to enjoying the pleasures of this life, but we have (so much) wealth that we find no way to spend it except on the ground. Had the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) not forbidden us to wish for death, I would have wished for it." When we visited him for a second time, he was building himself a wall, and he said: "A Muslim is rewarded (in the Hereafter) for whatever he spends, except for something he has spent on building."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6011

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث میں بیان ہے کہ خباب بن ارت کو سات دفعہ (بطور علاج) داغ لگایا گیا تھا۔ ان کے کچھ دوست احباب ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ صحابہ جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں انہوں نے دنیا کی لذات سے کچھ فائدہ اٹھایا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے جو آخرت میں اجر و ثواب تیار کر کے رکھا گیا ہے اس میں کچھ کمی ہو۔ جب کہ انہیں بہت زیادہ مال ملا ہے جسے محفوظ کرنے کے لیے انہیں سوائے اس کے کوئی جگہ نہیں ملتی کہ اس سے عمارتیں بنائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔ سوائے اس وقت کے جب دین کے سلسلے میں فتنوں میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اس صورت میں آدمی موت کی دعا کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے ماسوا اس خرچ کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے یعنی عمارت کی تعمیر پر۔ کیونکہ عمارت کے سلسلے میں اگر انسان صرف بقدر کفایت پر انحصار کر لے تو اسے زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ جب کہ یہ مال جو وہ زائد از ضرورت عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر انسان کو کوئی اجر نہیں ملتا ماسوا اس عمارت کے جسے وہ فقراء کے لئے بناتا ہے تاکہ وہ اس میں سکونت اختیار کریں یا پھر وہ عمارت جس کی آمدن کو وہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی عمارت۔ صرف اس صورت میں اسے اجر ملتا ہے۔تاہم ایسی عمارت جسے وہ خود اپنی سکونت کے لیے بنائے اس میں اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔
داغ لگوانے کے سلسلے میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ داغ لگوانے میں شفاء ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شفاء دینے والی ذات اللہ عزوجل کی ہے تو اس کے داغ لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا پھر یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو کسی اور طریقۂ علاج کو اختیار کرنے پر قادر ہو لیکن جلد بازی کرے اور اسے آخری طریقہ علاج کے طور پر استعمال نہ کرے۔

Explanation

This Hadīth relates that Khabbāb ibn al-Aratt (may Allah be pleased with him) was sick and had been cauterized in seven places for his sickness, so his companions came to pay him a visit. He told them that the early Companions had died without enjoying any worldly pleasures, which could have lessened the reward they had been promised in the Hereafter. He also said that he had collected so much wealth that he could not find a way to spend it, except on the ground, and that if the Messenger of Allah had not forbidden them from supplicating to Allah for death (except in times of trial regarding one's religion, when one should supplicate to Allah with the reported supplications), he would have asked Allah for it. He also told them that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that a person is rewarded for everything he spends, except what he spends on the ground, meaning what he builds, because if a person builds only what he needs, this does not require much expenditure. So the money spent on constructing extra (unnecessary) buildings is not rewarded, except a building that was made for the poor to live in or its income was dedicated to the cause of Allah, or something similar. This kind of building is rewarded, but there is no reward in building a place to live in (that is unnecessarily large and beyond the space he needs). Regarding cauterization, its prohibition is meant for anyone who believes that the cure comes from the cauterization, but there is no harm in it for the one who believes that Allah, the Exalted, is the Curer. The prohibition may also be meant for a person who is able to use another method of treatment, but rushed to have cauterization and did not make it the last resort.

Topics موضوعات