صحیح مسلم
Sahih Muslim

اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گنا ہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8280Sahih صحیح
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قامَ إلى الصلاة، قال: «وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفًا، وما أنا من المشركين، إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين، اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت، لبَّيْك وسَعْدَيْك، والخيرُ كله في يديك، والشر ليس إليك، أنا بك وإليك، تباركتَ وتعاليتَ، أستغفرك وأتوب إليك»، وإذا ركع، قال: «اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي»، وإذا رفع، قال: «اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد»، وإذا سجد، قال: «اللهم لك سجدتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين»، ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهُّد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت».
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو (’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر) یہ دعا پڑھتے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ میری صلاۃ، میری قربانی ، میرا جینا ا ور مر نا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تا بع دار ہوں۔ اے اللہ! تو باد شاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلا ق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عا دتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے۔ میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیر ا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی بر کت والا اور بہت بلند وبالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضو ر توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ“ اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعر یف کی، اے ہمارے رب !تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس کے بعد جو کچھ تو چا ہے اس کے برابر۔
اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے : ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ اے اللہ!میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابع دار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی ، اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ اللہ کی ذات بڑی با بر کت ہے وہ بہترین تخلیق فرما نے والا ہے۔
اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے در گزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) got up to pray, he would say: “I have turned my face in complete devotion to the One Who created the heavens and the earth, and I am not one of the polytheists. Verily my prayer, my sacrifice, my life and my death are for Allah, the Lord of the worlds; there is no partner with Him and this is what I have been commanded (to profess and believe) and I am of the Muslims. O Allah, You are the Sovereign, there is no god but You. You are my Lord and I am Your slave. I have wronged myself and I have admitted my sin, so forgive all my sins, for no one forgives sins but You. Guide me to the best of morals for none can guide to them but You, and deliver me from the worst of morals for none can deliver me from them but You. Here I am, in answer to Your call, happy to serve You. All good is within Your hands and evil does not stem from You. I exist by You and I turn to You. Blessed and Exalted. I seek Your forgiveness and repent to You.” When he bowed, he would say: “O Allah, it is for You that I bowed, it is in You that I believed, and it is to You that I submitted. Humbled to You are my hearing, my eyesight, my mind, my bones, and my tendons.” When he rose from bowing, he would say: “O Allah, our Lord, praise is due to You, (praise) that fills the heavens and the earth, that fills what exists between them, and that fills anything You desire afterward.” When he prostrated himself, he would say: “O Allah, it is to You that I prostrated myself, it is in You that I affirmed my faith, and it is to You that I submitted. My face has prostrated to the One who created it and shaped it and split open its faculties of hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of Creators.” Then, one of the last things he would say between the Tashahhud and Taslīm is: “O Allah, forgive my past and future sins, my hidden and apparent sins, my transgression, and the sins that You know of more than I do. You are the One who puts forward and the One who holds back. There is no god but You.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8280

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ جب صلاۃ (نماز) کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض“ یعنی اپنی عبادت کے ساتھ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ معنیٰ یہ ہے کہ میں اپنی عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور اس کے علاوہ تمام اشیاء سے میں منہ موڑتا ہوں۔جس نے اس طرح کی مخلوقات پیدا کی ہیں جو انوکھے پن اور اتقان میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں وہ اس لائق ہے کہ چہروں کا رخ اسی کی طرف ہو اور تمام احوال میں دل اسی پر تکیہ کریں اور اس کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کی رضا و خیر کے دوام کے سوا ان کی کوئی اور آرزو نہ ہو۔ ”حنيفًا وما أنا من المشركين“ یعنی میں ہر باطل دین سے ہٹ کر دین حق کی طرف آنے والا اور اس پر ثابت قدم رہنے والا رہوں۔ عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال اس شخص کے لیے عام ہو گیا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہوتا۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين“ یعنی میری نماز، میری عبادت اور میری نیکی سب کچھ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اس میں میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ اسی طرح میری زندگی اور موت اللہ کے لیے ہے۔ وہی ان کا خالق اور ان کا مقدر کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کسی کو ان میں تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں پاک ہے۔ میرے رب نے مجھے اس توحید و اخلاص کا حکم دیا ہے اور میں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے والے فرماں بردار اور اطاعت گزار بندوں میں سے ہوں۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت“ یعنی اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ بادشاہت درحقیقت تیرے سوا کسی کی نہیں۔ الوہیت میں تو یکتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ تیرے ذکر سے غافل ہو کر اور معاصی و گناہوں کا ارتکاب کر کے میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ تو ہی غفار و غٖفور ہے۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت“ کہ بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، مجھے انہیں اپنانے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اپنی عبادت اور دیگر معاملات میں مجھے ظاہری و باطنی بہترین اور پاکیزہ اخلاق تک رسائی عطا فرما۔ان کی طرف رہنمائی کرنے والا تو ہی تو ہے۔ تیرے سوا کوئی راہنما نہیں۔ برے اخلاق سے مجھے دور رکھ اور ان سے میری حفاظت فرما۔ان سے دور رکھنے والا اور ان سے حفاظت کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”لبَّيْك وسَعْدَيْك“ یعنی تیری اطاعت پر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوں اور اس اطاعت پر قائم رہنے اور تیری پکار کا جواب دینے کی مجھے خوشی در خوشی ہے۔
پھر آپ ﷺ فرماتے: ”والخيرُ كله في يديك“ خیر سب کی سب تیرے تصرف میں ہے۔ تو ہی اس کا مالک ہے اور اس میں تیری منشا کے مطابق بس تیرا ہی اختیار چلتا ہے۔
”والشر ليس إليك“ یعنی شر تیرے مفعولات اور مخلوقات میں ہوتا ہے نہ کہ فعل میں۔ شر کی نسبت کسی بھی صورت میں اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف نہیں کی جاسکتی، نہ اس کی ذات کی طرف اور نہ ہی صفات کی طرف اور نہ ہی اس کے افعال و اسماء کی طرف۔ اللہ کی ذات کو ہر طرح سے کمال مطلق حاصل ہے اور اس کی تمام صفات کامل صفات ہیں جن پر اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔ اللہ کے تمام افعال خیر و رحمت اور عدل و حکمت سے مرکب ہیں۔ ان میں کسی بھی طور پر شر نہیں ہوتا۔ اس کے تمام اسماء حُسن وخوبی سے متصف ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف شر کی نسبت کیسے کی جا سکتی ہے؟ بلکہ شر اس کے مفعولات و مخلوقات میں ہوتا ہے جو اس کی ذات سے الگ ہے۔ کیونکہ اس کا فعل، مفعول نہیں ہے۔ اس کا فعل تو سب کا سب خیر ہے۔ جب کہ مخلوق جو فعل کا نتیجہ ہوتی ہے اس میں خیر بھی ہوتی ہے اور شر بھی۔ جب شر ایک ایسی شے ہے جو الگ سے ایک مخلوق ہے اور رب تعالی شانہ کے ساتھ اس کا وجود قائم نہیں تو اس کی نسبت بھی اس کی طرف نہیں کی جائے گی۔ اس میں معتزلہ کی حجت نہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر کو پیدا نہیں کیا۔ اللہ خیر و شر اور ہر شے کا خالق ہے۔
”أنا بك وإليك“ یعنی میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں، تجھ ہی پر تکیہ کرتا ہوں، تیری حفاظت میں آتا ہوں اور تیرے سہارے ہی قائم ہوں۔ میرا رخ تیری طرف ہے اور میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔یا پھر یہ معنی ہے کہ میں تجھ ہی سے مربوط ہوں اور میرے معاملے کی انتہا تو ہی ہے۔ تو ہی مبدأ ہے اور تو ہی منتہا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے: میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔
”تباركتَ وتعاليتَ“ یعنی تو عظیم و بزرگ ذات ہے اور تیری بھلائیاں بہت زیادہ ہیں۔ تو ان تمام باتوں سے بالا تر ہے جنہیں اوہام اور عقلیں تصور کرتی ہیں اور تو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ ”أستغفرك وأتوب إليك“ میں تجھ سے گزشتہ گناہوں پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور باقی زندگی میں، مَیْں گناہ سے منہ موڑتا ہوں اور تاوقتِ مرگ توفیق و ثابت قدمی سے تیری طرف متوجہ رہنے کا عزم کرتا ہوں۔
جب آپ ﷺ رکوع فرماتے تو کہتے: ”اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي“ یعنی میرا رکوع خالصتاً صرف تیرے لیے ہے، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء یعنی کان، آنکھ، مغز، ہڈی اور اعصاب سب کے سب تیرے حکم کے سامنے ہیچ اور اس کے پابند ہیں۔
جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے: ”اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد“ یعنی میں تیری ایسی حمد کرتا ہوں کہ اگر اس کا جسم ہوتا تو یہ آسمانوں اور زمین اور آسمانوں اور زمین کے بعد ہر اس شے کو بھر دیتی جسے تو چاہتا۔
جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللهم لك سجدتُ،وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين“ یعنی میرا سجدہ خالصتاً صرف تیرے لیے ہے۔میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء جنہیں تو نے پیدا کیا ہے اور انہیں شکل دی ہے وہ سب تیرے حکم کے پابند ہیں۔
”تبارک اللہ احسن الخالقین“بابرکت ہے وہ ذات باری تعالیٰ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والی ہے۔
تشہد اور سلام کے مابین آخر میں آپ ﷺ یہ کہتے: ”اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت“ یعنی اے اللہ! میرے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف فرما۔ گویا کہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ میرے پرانے اور نئے سب گناہ معاف فرما۔ ”وما أسررتُ وما أعلنتُ“ یعنی میرے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف فرما یا وہ گناہ معاف فرما جن کا خیال میرے دل میں آیا اور وہ بھی جو میری زبان تک آ گئے۔ ”وما أسرفت“ یعنی میرے اُن گناہوں اور معصیتوں کو معاف فرما جن میں میں نے حد سے تجاوز کیا۔ ”وما أنت أعلم به مني“ یعنی میرے وہ گناہ بھی معاف فرما جن کو میں نہیں جانتا۔ ”أنت المقدِّم وأنت المؤخِّر“ معنی یہ کہ اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت اپنی طاعت وغیرہ کی بدولت تو جسے چاہتا ہے آگے کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

Explanation

When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) got up for prayer, he would say: “I have turned my face to the One who created the heavens and the earth,” meaning that I direct my worship to Allah, I devote my worship to Allah who created the heavens and the earth without precedent, and I turn away from any other than Him. The One who originated all these creatures with such creativity and precision truly deserves that all faces turn to Him, and all hearts rely on Him in all their states; turning not to other than Him, and hoping for nothing but His perpetual contentment and grace. “…in complete devotion and I am not one of the polytheists” meaning that I am leaning away from all false religions and inclining towards the true religion; Islam, and remaining firm upon it. Among the Arabs, Islam prevailed over everyone who was following the religion of Ibrahīm (peace be upon him). Then he said: “Verily my prayer, my sacrifice, my life and my death are for Allah, the Lord of the worlds; there is no partner with Him and this is what I have been commanded (to profess and believe) and I am of the Muslims,” meaning that my prayer, my worship, and my efforts to draw closer are all devoted to Allah. I do not have partners alongside Him. Likewise is my life and my death; Allah is the One who created and decreed them, and no one but Him disposes of them. There is no partner with Him in His essence, His attributes, and His actions. My Lord commanded me to worship Him alone with such devotion, and I am of the believers who yield and submit to Him, Exalted is He. Then he said: “O Allah, You are the Sovereign; there is no god but You. You are my Lord, and I am Your slave. I have wronged myself and I have admitted my sin, so forgive all my sins, for no one forgives sins but You,” meaning, O Allah, You are the King and there is no king but You; and verily, there is no sovereignty for anyone but You. You alone possess Divinity, and there is no god but but You. You are my Lord and I am Your slave; I have wronged myself by being unmindful of You and by committing sins and acts of disobedience. I have acknowledged my sins, so forgive them for me, because no one forgives sins but You. You are the Oft-Forgiving and the Superb Forgiver. Then he said: “Guide me to the best of morals for none can guide to them but You, and deliver me from the worst of morals for none can deliver me from them but You,” meaning, show me the way, grant me steadfastness, and help me attain the best conduct in your worship and all other good conduct, what is open and what is secret in them, for You are the One who guides to them and there is no other guide than You. Keep me away and protect me from bad conduct, because no one can keep me away and protect me from it but You. Then he said: “Here I am, in answer to Your call, happy to serve You”; meaning that I am ever obedient to You, and I am always glad to hold fast to worshiping You and to answering Your call. Then he said: “All good is within Your hands,” meaning that all good is in Your disposition (of affairs). You are the Possessor of all goodness and You dispose of it the way You will. “…and evil does not stem from You,” meaning that evil does not lie in Your actions; it only lies in what You created but not in Your actions, Exalted are You. Evil is not attributed to Allah in any way, not in His essence, His attributes, His actions or His names. His essence is absolutely perfect in all aspects. His attributes are those of perfection for which He is praised and lauded. His actions are all good, merciful, just, wise, and totally devoid of evil. And His names are all beautiful; so how can evil be attributed to Him? Rather, evil is in what He created, and He is detached from it. There is a distinction between His actions and His creation; His action is all good, but the creation comprises both good and evil. If evil is a separate stand-alone creation, it is not attributed to Him. There is no supportive argument in this for the Mu‘tazilite claim that Allah did not create evil. Allah created good and evil and He created all things, Exalted may He be. “I exist by You and I turn to You,” meaning that I seek refuge in You, I rely on You, I take shelter with You, I undertake everything with Your help, and I turn to You; or, I worship You alone and my affairs lie with You alone. You are the start and You are the destination. It was also said that it means I seek Your help and I turn to You. “Blessed and exalted may You be,” meaning may You be glorified and lauded, may Your graces multiply, and may You be exalted far above what imaginations fancy and what minds conceptualize. Exalted are You above every deficiency and flaw. “I seek Your forgiveness and repent to You,” meaning that I ask forgiveness for my past sins, and I refrain from sinning in what is left of my life, turning to You to grant me success and steadfastness until the day I die. When he bowed, he would say: “O Allah, it is for You that I bowed, it is in You that I believed, and it is to You that I submitted. Humbled to You are my hearing, my eyesight, my mind, my bones, and my tendons,” meaning that my bowing is devoted to You alone. I have believed in You and submitted to You. All my body – my hearing, sight, mind, bones and tendons – humbly follow Your command. When he rose from bowing, he would say: “O Allah, our Lord, praise is due to You, (praise) that fills the heavens and the earth, that fills what exists between them, and that fills anything You desire afterward,” meaning that I praise You with an amount of praise that, if it were tangible, it would fill the heavens and the earth and whatever You wish it to fill of Your creation after filling the heavens and the earth. When he prostrated himself, he would say: “O Allah, it is to You that I prostrated myself, it is in You that I affirmed my faith, and it is to You that I submitted. My face has prostrated to the One who created it, shaped it and split open its faculties of hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of Creators,” meaning that my prostration is to You alone, sincerely devoted to You. I have believed in You, yielded to You, and all my senses, which You created and shaped, humbly follow Your command. Blessed is Allah, the best of Creators. Then, one of the last things he would say between the Tashahhud and Taslīm is: “O Allah, forgive my past and future sins, my hidden and apparent sins, my transgression, and the sins that You know of more than I do. You are the One who puts forward and the One who holds back. There is no deity worthy of worship but You,” meaning forgive my early and my later sins; as if he is saying: forgive the old and the new sins. “…my hidden and apparent sins,” meaning forgive the sins that I kept secret and those that I made public, or the sins I thought about inside my head and those that my tongue spoke of. “…my transgression,” meaning the sins and acts of disobedience that I went too far in. “…and the sins that You know of more than I do,” meaning forgive my sins that I do not know about. “You are the One who puts forward and the One who holds back,” meaning that You advance whomever You will in worship and obedience and You hold back whomever You will from that, as Your wisdom dictates. You grant honor to whoever You will and You cause humiliation to whoever You will. “There is no god but You,” meaning that there is no god who truly deserves to be worshiped but You.

Topics موضوعات