سنن ابو داؤد · سنن نسائی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Musnad Ahmad

میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8281Sahih صحیح
عن عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه قال: قمتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلةً، فقام فقرأ سورةَ البقرة، لا يَمُرُّ بآية رحمةٍ إلا وقفَ فسأل، ولا يَمُرُّ بآية عذابٍ إلَّا وقف فتعوَّذ، قال: ثم ركع بقَدْر قيامِه، يقول في ركوعه: «سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ»، ثم سجد بقَدْر قيامه، ثم قال في سجوده مثلَ ذلك، ثم قام فقرأ بآل عمران، ثم قرأ سورةً سورةً.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بقدر قیام رکوع کیا اور آپ ﷺ اپنے رکوع میں فرما رہے تھے: ’’سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمة‘‘ (پاک ہے وہ ذات جو بڑے قہر وغلبے، بڑی بادشاہت، نہایت بڑائی اور بے حد عظمت والی ہے)۔ پھر قیام ہی کے بقدر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں بھی آپ ﷺ نے یہی دعا پڑھی۔ پھر آپ ﷺ ( دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے اور سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورت پڑھی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Awf ibn Mālik al-Ashja‘i (may Allah be pleased with him) reported: I stood in prayer one night with the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him). He stood up and recited Sūrat al-Baqarah. Whenever he came across a verse mentioning mercy, he stopped and asked (Allah for mercy); and whenever he came across a verse mentioning punishment, he stopped and sought refuge (with Allah from it). Then he bowed and paused as long as he stood, and said while bowing: "Glory be to the Possessor of greatness, dominion, grandeur, and majesty." Then he prostrated himself and paused as long as he stood and said while prostrating the same thing he said while bowing. He then stood up and recited Sūrat Āl-‘Imrān, and then recited other Sūrahs, one after another.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8281

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز تہجد ادا کی۔آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں رحمت اور جنت کا ذکر ہوتا تو اللہ سے اس کی رحمت اور جنت کا سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر لمبا رکوع کیا اور اپنے رکوع میں آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے: " سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ "۔ یعنی میں پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس ذات کی جو زبردست اور غالب ہے، جو ظاہری وباطنی بادشاہت کا مالک ہے اور بڑائی وعظمت والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں وہی دعا پڑھی جو آپ ﷺ نے اپنے رکوع میں پرھی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی اور پھرایک ایک سورت کی تلاوت فرمائی۔

Explanation

‘Awf ibn Mālik al-Ashja‘i (may Allah be pleased with him) reported that he joined the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) one night in voluntary night prayer. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) stood up and recited Sūrat al-Baqarah. Whenever he passed by a verse that mentions mercy and Paradise, he stopped and asked Allah for His mercy and Paradise, and whenever he passed by a verse that mentions punishment, he stopped and sought refuge with Allah from His punishment. Then he bowed for a long time, as long as the time he stood, and he said while bowing: Glory be to the Possessor of Greatness, Dominion, Grandeur, and Majesty; i.e. I exalt Allah, the Almighty, and All-Powerful, the Possessor of Dominion explicitly and implicitly, the Possessor of Grandeur and Majesty. Then he prostrated himself for a long time, as long as the time he stood, and he said while prostrating the same thing he said while bowing. Then he stood up and recited Sūrat Āl-‘Imrān then other Sūrahs, one after the other.

Topics موضوعات