صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8285Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا تَهَجَّد من الليل قال: «اللهم ربَّنا لك الحمدُ، أنت قَيِّمُ السموات والأرض، ولك الحمدُ أنت ربُّ السموات والأرض ومَن فيهنَّ، ولك الحمدُ أنت نورُ السموات والأرض ومن فيهنَّ، أنت الحقُّ، وقولُك الحقُّ، ووعدُك الحقُّ، ولقاؤك الحقُّ، والجنةُ حقٌّ، والنارُ حقٌّ، والساعةُ حقٌّ، اللهم لك أسلمتُ، وبك آمنتُ، وعليك توكَّلتُ، وإليك خاصمتُ، وبك حاكمتُ، فاغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وأسررتُ وأعلنتُ، وما أنت أعلم به مني، لا إلهَ إلا أنت».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلِقَاؤُكَ الحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّارُ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ“ اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) offered voluntary prayer during the night, he would say: "O Allah, our Lord! All praise belongs to You. You are the Custodian of the heavens and the earth, all praise belongs to You. You are the Lord of the heavens and the earth and all what is in them, all praise belongs to You. You are the Light of the heavens and the earth and all that is in them. You are the Truth, Your speech is the Truth, Your promise is the Truth, Your meeting is the Truth, Paradise is true, Hell-fire is true, and the Hour is true. O Allah, to You I submit, in You I believe, upon You I rely, By Your help I contend with my foes, and to You I refer for judgment. So, forgive me the sins I committed in the past and those I may commit in the future, those I did secretly and those I did openly, and all that which You know of better than I do. There is no god but You.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8285

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ جب رات کی نماز (تہجد) کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد فرماتے: ”اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے“ یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے واجب ہیں اور وہی ان کا حق دار ہے۔ چنانچہ وہ اپنی صفات اور اپنے اسماء پر، اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات پر، اپنی تخلیق اور اپنے افعال پر اور اپنے امر اور حکم پر لائقِ تعریف ہے، نیز وہی اول و آخر میں اور ظاہر و باطن میں لائقِ ستائش ذات ہے۔
پھر آپ فرماتے: ”تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے“ یعنی تو ہی وہ ذات ہے جس نے ان آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود دے کر قائم کیا اور تو ہی ہے جو ان کی اس طرح سے دیکھ بھال کرتا ہے کہ یہ درست اور اپنی حالت پر قائم رہتے ہیں۔ پس تو ہی خالق و رازق، مالک و مدبر اور زندگی و موت دینے والا ہے۔
پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے“ یعنی تو ان دونوں کا اور ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے، تو جیسے چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے اور تو ہی ان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ پس بادشاہت صرف تیرے لیے ہےاور تیرے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی اور مدبر ہے۔ تو با برکت اور بلند ہے۔
پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا نور ہے“ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نور ہے اور اپنے اس نور کے ذريعہ وہ اپنے مخلوق سے مستور ہے۔ اور اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہےاور ان میں بسنے والوں کو راہ سجھاتا ہے۔ اللہ تعالی سے صفتِ نور کی نفی کرنا یا اس کی تاویل کرنا کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔
پھر فرماتے: ”تو حق ہے“ حق اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ پس اللہ اپنی ذات اور صفات میں حق ہے۔ وہ واجب الوجود ہے (ایسا موجود کہ جس کا وجود ضروری اور کسی پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہے) اور اس کی صفات کامل ہیں، اس کا وجود اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور ہر شے کا وجود اللہ ہی کے ذريعہ ہے۔
پھر فرماتے: ”تیرا فرمان حق ہے“ یعنی تو نے جو کچھ کہا وہ سچ، حق اور عدل ہے۔ اس میں آگے پیچھے کسی بھی طرف سے باطل کے در آنے کی گنجائش نہیں، نہ اس کی خبر میں، نہ اس کے حکم اور اس کی تشریع میں اور نہ ہی اس کے وعدے اور وعید میں۔
پھر فرماتے: ”تیرا وعدہ حق ہے“ یعنی تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور ویسے ہی ہو کر رہے گا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے۔ اس ميں نہ ہی وعدہ خلافی کی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔
پھر فرماتے: ”تیری ملاقات حق ہے“ یعنی بندے ضرور تجھ سے ملاقات کریں گے اور تو ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ملاقات میں اللہ سبحانہ تعالی کی رؤیت بھی شامل ہے۔
پھر فرماتے: ”جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے“ یعنی دونوں ثابت و موجود ہیں جیسا کہ تو نے بتایا ہے کہ یہ دونوں ان کے اندر جانے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں دار البقاء (ہمیشہ رہنے والے) ہیں اور یہی دونوں تمام بندوں کا آخری ٹھکانہ ہیں۔
پھر فرماتے: ”قیامت حق ہے“ یعنی روز قیامت کا آنا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ضرور آ کر رہے گی۔ یہ دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہے۔
”اے اللہ میں تیرا تابع فرمان ہوا“ یعنی میں تسلیم و رضا کے ساتھ تیرے حکم کا مطیع و فرماں بردار ہوں۔
”میں تجھ پر ایمان لایا“ یعنی میں نے تیری اور تو نے جو کچھ نازل کیا اس کی تصدیق کی اور اس کے تقاضے پر عمل کیا۔
”میں نے تجھی پر توکل کیا“ یعنی میرا بھروسہ تجھی پر ہے اور میرے تمام معاملات تیرے سپرد ہیں۔
”تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے جھگڑا کیا“ یعنی تو نے مجھے جو دلائل دیے ہیں ان کے ساتھ میں نے مخالفِ حق سے بحث کیا اور اس پر غلبہ پالیا۔
”تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا“ یعنی جس نے بھی حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اسے تسلیم نہیں کیا، اس کا معاملہ میں تیری بارگاہ میں لے کر آیا اور اپنے اور اس کے مابین تجھی کو فیصل بنایا اور کسی بھی طاغوت جیسے خود ساختہ قانون، یا کاہن یا ایسے ہی دیگر شرعاً باطل ذرائع سے فیصلہ کرانے سے گریز کیا جن سے لوگ اپنے فیصلے کراتے ہیں۔
”پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے“ یعنی میرے وہ تمام گناہ معاف فرما جن کا میں مرتکب ہوا ہوں اور جن کا میں آگے بعد میں مرتکب ہوں گا، اور اس میں سے جو کچھ تیرے کسی مخلوق کے سامنے ظاہر ہیں اور جو ان سے چھپے ہوئے ہیں اور تیرے علاوہ انہیں کوئی نہیں جانتا۔
پھر آپ ﷺ اپنی دعا کا اختتام اپنے ان الفاظ کے ساتھ کیا: ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“چنانچہ میں تیرے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ تیرے سوا جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور اس سے دعا کرنا گمراہی اور وبال ہے۔ یہی وہ توحید ہے جسے اللہ کے تمام رسول لے کر آئے اور اللہ تعالی نے اسے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔

Explanation

When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would rise during the night to offer voluntary prayer, after making the initial Takbīr to start the prayer, he would say, “O Allah, our Lord! All praise belongs to You”, i.e. all praise is due to Allah, the Exalted, for He is the One who is praised for His attributes, His names, His blessings, His favors, His creation, His actions, His commands, and His judgment. He is the One who is praised in the beginning and at the end, externally and internally.
Then he said: “You are the Custodian of the heavens and the earth”, i.e. You are the One who brought them into existence from nothingness, the One who takes care of them with what will benefit them and maintain them. You are the Creator, the Provider, the Owner, the Manager, the Giver of life, and the Giver of death.
Then he said: “All praise belongs to You, You are the Lord of the heavens and the earth and all that is in them”, i.e. You are their Owner and the owner of all that is in them, the Disposer of their affairs according to Your will. You brought them into existence from nothingness, so the kingdom belongs to You. No one other than You shares the dominion or manages the affairs, Blessed and Exalted You are.
Then he said: “All praise belongs to You, You are the Light of the heavens and the earth and all that is in them”, i.e. one of His attributes is that He is light, and He concealed Himself from His creation by light. He, may He be glorified, illuminates the heavens and the earth, and is the Guide of the inhabitants of the heavens and the earth. It is not right to deny the attribute of light from Allah, Exalted, nor to interpret it.
Then he said: “You are the Truth”, and the Truth is one of His names and attributes. He is the Truth in His essence and attributes. His existence is imperative, His attributes and characteristics are perfect. His existence is one of His inseparable attributes, and nothing exists except by Him.
Then he said: “Your speech is the Truth”, i.e. all that You say is true, right and just. Falsehood cannot approach it from before it or from behind it. There is no falsehood in its reports, judgment, legislation, nor in its promise or warning.
Then he said: “Your promise is the Truth”, i.e. You do not break the promise, so whatever You have promised must occur just as You promised it, neither broken nor changed.
Then he said: “Your meeting is the Truth”, i.e. it is inevitable that the slaves will meet You and You will reward them for their deeds. The meeting includes seeing Allah, Glorified and Exalted.
Then he said: “Paradise is true and Hell-fire is true”, i.e. both of them are established and existing, as You informed us that both of them are prepared for their inhabitants. They are the permanent abode and the final destination of the slaves.
Then he said: “The Hour is true”, i.e. the coming of the Day of Judgment is a truth concerning which there is no doubt. It is established and must take place. It is the end of this world and the beginning of the Hereafter.
His statement: “O Allah, to You I submit” means I surrender to Your judgment, yield to it and accept it. His statement: "in You I believe” means I have believed in You and what You sent down, and I have acted upon it.
"Upon You I rely” means I have depended on You and entrusted my affairs to You. “By your help I contend with my foes” means I have used the proofs You brought to refute and defeat the one who is obstinate (in rejecting the truth). "To You I refer for judgment” means I have made You the Judge between me and anyone who refuses to accept the truth or opposes it, thereby refusing the judgment of all "Tāghūts" (i.e. false gods), such as man-made laws, soothsayers or anything from which mankind seeks a judgment, including principles which are baseless in the sight of the Islamic law.
His statement: “So, forgive me the sins I committed in the past and those I may commit in the future, those I did secretly and those I did openly, and all that which You know of better than I do” means forgive all the sins that I have already committed and all the ones that I will commit; those that are apparent to anyone of Your creatures and those that are hidden from them, and those which no one knows of except You.
Then he concluded his supplication with the statement: “There is no god but You”, therefore I do not turn towards anything except You. Anything worshiped other than You is false, and calling upon it is error and its consequence is evil. This is the pure monotheism that the messengers of Allah brought and it is what Allah has imposed upon His slaves.

Topics موضوعات