صحیح مسلم
Sahih Muslim

کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10111Sahih صحیح
عن معاذة العدوية: أنها سألتْ عائشةَ رضي الله عنها : أكانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثة أيَّامٍ؟ قالتَ: نعم. فقلتُ: مِنْ أيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوم؟ قالتَ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أيِّ الشَّهْرِ يَصُومُ.
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ’ہاں‘ ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ مہینے کے کس حصے میں روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اس کی فکر نہیں کیا کرتے تھے کہ مہینے کی کن تاریخوں میں روزے رکھیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Mu‘ādhah al-‘Adawiyah reported that she asked ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her): “Did the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) fast three days of each month?” ‘Ā’ishah replied: 'Yes.' Mu‘ādhah asked: “In which part of the month did he fast?” ‘Ā’ishah replied: “It did not matter to him in which part of the month he fasted.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10111

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔ یعنی کم از کم آپ ﷺ مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔
”میں نے پوچھا کہ وہ مہینے کے کس دن روزہ رکھا کرتے تھے“ اس میں ہفتے کے دنوں سے احتراز ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ مہینے کے ابتدائی حصے میں روزہ رکھا کرتے تھے یا پھر اس کے درمیانی یا آخری حصے میں اور پہ درپہ رکھا رکھا کرتے تھے یا پھر الگ الگ؟۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مہینے کے دنوں کو متعین کرنے کی فکر نہیں کیا کرتے تھے بلکہ بلا تخصیص روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ثواب ہر صورت میں ملتا ہے چاہے کوئی بھی دن ہو۔ یعنی آپ ﷺ اپنی مرضی سے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی مشغولیت ایسی ہوتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ اس بات کی رعایت نہیں کرسکتے تھے یا پھر آپ ﷺ ایسا بیان جواز کے لئے کرتے تھے۔ بہرطور جیسے بھی رکھیں آپﷺ کے حق میں وہ افضل ہی ہیں۔

Explanation

Mu‘ādhah al-‘Adawiyah reported that she asked ‘Ā’ishah: “Did the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) fast three days of each month?” ‘Ā’ishah replied: 'Yes.' i.e. this is the least number of days that he fasted. Mu‘ādhah further asked: “Which days of the month (or week) did he fast?” i.e. those three days were from the beginning, the middle or the end of the month, and were they consecutive or separate? ‘Ā’ishah replied: “It did not matter to him…” i.e. He did not specify certain days of the month to fast, because the reward is granted with fasting any three days. This means that he fasted according to what he deemed convenient, since something might come up and prevent him from observing fasting, or perhaps he did it to show in a practical manner what is permissible, and either of these reasons is excellent concerning his right and status.

Topics موضوعات