قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگ جائیں گے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #10897Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 10897)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
مساجد کے سلسلے میں مباہات کے معنی ہیں ان کی تعمیر، آرائش و زیبائش، بلندی اور ان کی چھتوں کی اونچائی پر ایک دوسرے پر فخر کرنا، مثلا آدمی دوسرے شخص سے کہے کہ میری مسجد تیری مسجد سے زیادہ اچھی ہے اور میری مسجد کی تعمیر تیری مسجد سے بہتر ہے وغیرہ وغیرہ۔ بسا اوقات یہ مباہات قول کی بجائے فعل (عمل) کے ذریعہ ہوتی ہے، مثلا مسجد کی آرائش و زیبائش اور اس کی عمارت کی بلندی میں مبالغہ کیا جائے؛ تاکہ دوسری سے زیادہ خوب صورت نظر آئے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مساجد کے معاملے میں غلو نہ برتا جائے اور ان کی زیبائش نہ کی جائے؛ کیوں کہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ انھیں تو نماز، اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے آباد رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ﴾ ”الله کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے، جو الله اور آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی“۔
عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: لوگوں کو بارش سے بچاؤ اور سرخ اور زرد رنگ مت کرو۔ مبادا یہ کہ تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دو۔ ”أكنَّ“ کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے لیے ایسی مسجد بناؤ کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوں، تو بارش ہونے پر انھیں بارش سے اور سورج کی گرمی سے بچائے۔ یعنی اپنا مقصد پورا کرے۔ انس رضی اللہ نے فرمایا: لوگ مساجد پر باہم فخر تو کریں گے، لیکن انھیں آباد کم ہی کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم مساجد کی ایسے زیبائش کرو گے، جیسے یہود و نصاری نے کی۔
یہ شے یعنی مساجد کے سلسلے میں باہم فخر کرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، جو اس وقت ظاہر ہوگی، جب لوگوں کے احوال میں بگاڑ، ان کے دین میں نقص اور ایمان میں کمزوری آ جائے گی۔ جب ان کے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا، شہرت اور فخر و مباہات کے لیے ہوں گے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that among the signs of the approaching Day of Judgment and the end of the world is that people will begin to boast about the decoration of their mosques or take pride in worldly matters within the mosques—though they were only built for the remembrance of Allah.