اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65099Sahih Muslim (HadeethEnc 65099)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں کہا ہے : میں نے نماز میں پڑھی جانے والی سورہ فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے بیچ آدھا آدھا بانٹ دیا ہے۔ آدھی سورت میرے لیے اور آدھی سورت اس کے لیے۔
اس کا نصف اول حمد و ثنا اور اللہ کی بڑائی پر مشتمل ہے، جس پر اللہ بندے کو بہترین بدلہ عطا کرتاہے۔
جب کہ اس کا نصف ثانی تضرع اور دعا سے عبارت ہے، جسے اللہ قبول فرماتا ہے اور انسان کو اس کی مانگی ہوئی ساری چیزیں عطا فرماتا ہے۔
جب نماز پڑھ رہا شخص {الحمد لله رب العالمين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب وہ {الرحمن الرحيم} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے مدح و ثنا کی اور مخلوقات پر میرے عام احسان کا اعتراف کیا۔ جب وہ {مالك يوم الدين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔
جب وہ {إياك نعبد وإياك نستعين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ ہے۔
اس طرح اس آیت کا نصف اول یعنی "إياك نعبد" اللہ کے لیے ہے، جس میں اللہ کی الوہیت اور بندے کی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی سے اس سورت کا پہلا نصف ختم ہو جاتا ہے، جو اللہ کے لیے ہے۔
جب کہ اس آیت کا نصف ثانی یعنی "إياك نستعين" بندے کے لیے ہے، جس میں اللہ کی مدد طلب کی گئی ہے اور اللہ نے اس سے مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔
پھر جب بندہ {اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے بندے کی جانب سے تضرع اور دعا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے اور میں نے اس کی دعا قبول کر لی۔
حدیث کے فوائد
- سورہ فاتحہ کی یہ اہمیت کہ اللہ تعالی نے اسے "الصلاۃ" یعنی نماز سے تعبیر کیا ہے۔
- اپنے بندے پر اللہ کی توجہ کا بیان کہ وہ اپنی حمد و ثنا کرنے کی وجہ سے بندے کی تعریف کرتا ہے اور اس سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسے وہ سب کچھ دے گا، جو وہ مانگے۔
- یہ سورت اللہ کی حمد و ثنا، آخرت کے ذکر، اللہ سے دعا، خالص اسی کی عبادت، سیدھا راستہ دکھانے کے سوال اور غلط راستوں سے خبردار کرنے جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔
- سورہ فاتحہ پڑھتے وقت نمازی اگر اس حدیث کو اپنے ذہن میں رکھے، تو نماز میں اس کا خشوع دو چند ہو جاتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that Allah Almighty, in a Qudsi Hadīth, said: I have divided Surat al-Fātihah in prayer between Myself and My servant in two halves; a half for Myself and a half for him.
In the first half: praise, exaltation, and glorification of Allah, for which I give him the best reward.
And in the second half: entreaty and supplication, to which I respond and give him what he has asked for.
When the praying person says, {All praise be to Allah, the Lord of the worlds}, Allah says: My servant has praised Me. And when he says, {The Most Compassionate, the Most Merciful}, Allah says: My servant has extolled Me, praised Me, and acknowledged My general favor upon My servants. And when he says, {Master of the Day of Judgment}, Allah says: My servant has glorified Me – and that is a great honor.
And when he says, {You alone we worship, and You alone we ask for help}', Allah says: This is between Me and My servant.
The first part of this verse, namely {You alone we worship), is an acknowledgment of the divinity of Allah and responding to Him with worship, and with it the half which is for Allah comes to an end.
The second part of the verse, namely {and You alone we ask for help}, contains the quest for help from Allah and His promise of help.
And when he says, {Guide us to the straight path*, the path of those whom You have blessed; not of those who incurred Your Wrath, or of those who went astray}, Allah says: This is entreaty and supplication from My servant, and My servant shall have what he has asked for, and I have answered his supplication.