حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58076Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58076)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
تین طلاق شدہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک اس مطلقہ خاتون سے کوئی دوسرا مرد نکاح کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کرلے، اس کے باوجود بعض لوگ شرعی احکام میں باہمی حیلہ سازی کا سہارا لیتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس خاتون سے مصنوعی و حیلہ پر مبنی نکاح کرے، پھر اس کو طلاق دے ، اس سے شرعی نکاح مقصود نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے شوہر کے لیے اس خاتون کو حلال کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ دراصل اس میں شریعت کے تئیں باہمی حیلہ سازی اختیار کرنے، گھٹیا نفسانی صفت، نخوت اور انسانی اخلاق کی کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے اس نکاح کو حرام قرار دیا اور حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی اور لعنت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کا مفہوم ہے۔
Explanation
When a wife is divorced for the third time, she is no longer lawful for her husband until she is married to another man, who should consummate marriage with her. Therefore, some people resort to circumventing legal rulings. An ex-husband would arrange with another man to marry his irrevocably divorced woman through a sham marriage and then divorce her, not intending the Shariah-approved marriage thereby, but with the sole purpose of rendering the irrevocably divorced wife lawful to her ex-husband. Due to such circumvention of Islamic rulings, and for the meanness and the lack of a sense of honor involved in this behavior, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade this kind of marriage and invoked curse and expulsion of Allah's mercy on the Muhallil and the Muhallah lahu.