جس آدمی نے کسی مسلمان کو آزاد کیا، اللہ اس آزاد کردہ غلام کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اس کے کسى ایک عضو کو آگ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #64703Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 64703)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غلام کو آزاد کرکے غلامی سے نجات دلانے کی فضیلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ایک اہم ترین عبادت، اللہ کی نزدیکی حاصل کرنے کا عظیم ترین ذریعہ اور آگ سے نجات حاصل کرنے کا بڑا اہم سبب ہے۔ جب کوئی انسان کسی غلام کو آزاد کرتا ہے، تو اللہ کے یہاں اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ اسے آگ سے آزاد کر دے، کیونکہ اللہ بدلہ اسی نوع کا دیتا ہے، جس نوع کا عمل انسان کرتا ہے۔ غلام آزاد کرنے والے کو آگ سے آزاد اس لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ غلام معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے اپنے بارے میں تصرف کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں کچھ اسی طرح کا تصرف کیا جاتا ہے، جو جانوروں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ لہذا، اس کو غلامی سے نجات دلانا عدم سے وجود میں لانے کے مرادف ہے، کیونکہ آزادی کے بعد وہ غلامی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے، اپنے منافع کا خود مالک بن جاتا ہے، احکام کی تکمیل کا اختیار حاصل کرلیتا ہے، اپنے نفس کے بارے میں تصرف کی قدرت پا لیتا ہے اور شریعت کے دائرے میں رہ کر اپنے ارادے اور اختیار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل کر لیتا ہے۔
Explanation
In this Hadīth, Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) says that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explained the virtue of emancipating people from slavery. It is one of the greatest acts of worship that draws one closer to Allah and frees him from Hell. If one manumits slaves for Allah's sake, his reward is that Allah will set him free from Hell. Since the reward is of the same kind of the deed, the manumitter is rewarded by being manumitted from Hell. This immense reward is – and Allah knows best – because a slave has no control over himself, for he is subject to someone else who controls him just as he controls a riding animal. So, emancipating him is like taking him out of nonexistence into existence. He is freed from the harm of slavery and is given control over himself. He can thus implement the religious rulings that apply to him and make his own decisions according to his free will and choice within the limits of Shariah.