میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3007Sahih Muslim (HadeethEnc 3007)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
معاویہ بن ابو سفیان مسجد میں موجود ایک حلقے کے پاس پہنچے اور حلقے میں شامل لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کا ذکر کرنے کے ارادے سے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی ان کے بیٹھنے اور یکجا ہونے کا مقصد اللہ کے ذکر کے سوا کچھ اور نہيں ہے؟ جب انھوں نے قسم کھا لی، تو فرمایا : میں نے تم کو قسم کھانے کو اس لیے نہيں کہا کہ میں تمھیں جھوٹا سمجھتا ہوں اور تمھارے سچے ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ان کو کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بتایا کہ ان کو آپ سے جو قربت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہيں تھی۔ کیوں کہ ان کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی تھیں اور خود وہ کاتبین وحی میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے آپ سے بہت کم حدیثیں نقل کی ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن گھر سے نکلے، تو دیکھا کہ کچھ صحابہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہيں اور اسلام کی ہدایت دینے پر اس کی تعریف کر رہے ہيں۔ چنانچہ آپ نے ان سے بیٹھنے کا مقصد پوچھا اور قسم بھی کھانے کو کہا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بیٹھنےکا سبب پوچھنے اور قسم کھانے کو کہنے کی وجہ بھی بتا دی۔ بتایا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر و مباہات کر رہا ہے، ان کی فضیلت کا اظہار کر رہا ہے، ان کا حسن عمل دکھا رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے۔
حدیث کے فوائد
- معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کا علم کی نشر و اشاعت کے جذبے سے سرشار ہونا۔
- جھوٹ کا اندیشہ نہ ہونے کے باجود اس ارادے سے قسم کھلانا جائز ہے کہ خبر کی اہمیت واضح ہو جائے۔
- ذِکر اور علمی اجتماعات کی فضیلت۔ اللہ اس طرح کے اجتماعات سے محبت رکھتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے۔
Explanation
Mu‘āwiyah ibn Abi Sufyān (may Allah be pleased with him and his father) came upon a group of people sitting in a circle in the mosque and asked them about the purpose behind their gathering. They replied: We are remembering Allah. He (may Allah be pleased with him) asked them to swear that they had only gathered and sat for the purpose of remembering Allah, and they swore to him. Then he said to them, I have not asked you to swear because I suspect you or question your truthfulness. He, then, was informed about his status by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and that no one was closer to him than he was, given the fact that his sister ’Umm Habībah was the Prophet's wife and that he was one of the scribes of the revelation, yet he did not narrate many Hadīths. He narrated to them that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came out of his home one day and found them sitting in the mosque, remembering Allah and praising Him for guiding them to Islam and for bestowing favor upon them. He (may Allah's peace and blessings be upon him) asked them and demanded they swear, just as Mu‘āwiyah (may Allah be pleased with him) did with his companions. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then informed them of the reason behind asking them and requiring them to swear, saying: Gabriel, the angel, (peace be upon him) came to him and informed him that Allah Almighty was boasting about you and taking pride in you before the angels; showing them your merit and the excellence of your deed and praising you in their presence.