”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66163Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 66163)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، اور جس سے میں جھگڑوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: 1: جو اللہ کی قسم کھا کر کوئی معاہدہ کرے، پھر اسے توڑ ڈالے اور دھوکہ کر ڈالے۔ 2: جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنا کر بیچ دے، پھر اس کی قیمت کھا جائے اور اس میں تصرف کرے۔ 3: وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے اور اس سے پورا کام لے لے، لیکن اسے اس کی مزدوری نہ دے۔
حدیث کے فوائد
- یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس کے ذریعے چیلنج دیا جانا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
- سندھی کہتے ہيں: کہا گیا ہے کہ تین کا ذکر تخصیص کے لیے نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی تمام ظالموں کا فریق مخالف ہے، بلکہ یہ ان تینوں کی شدید نکیر کے لیے ہے۔
- ابن الجوزی فرماتے ہیں: آزاد اللہ کا بندہ ہے، جس نے اس پر زیادتی کی تو اس کا فریقِ مخالِف اس کا آقا ہے، جو کہ اللہ ہے۔
- خطابی کہتے ہیں: کسی آزاد کو غلام بنانا دو طرح سے ہوتا ہے: ایک یہ کہ اسے آزاد کر دے، پھر اس بات کو چھپا لے یا اس کا انکار کر دے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آزاد کرنے کے بعد اس سے زبردستی خدمت لے۔ ان دونوں میں پہلی صورت زیادہ سنگین ہے۔ میں کہتا ہوں: اس باب کی حدیث زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ اس میں آزاد کرنے کی بات کو چھپانے یا اس کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے بیچ کر اس کی قیمت کھا جانے کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس پر وعید زیادہ سخت ہے۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) informed that Allah Almighty said: There are three types of people I will be hostile to them on the Day of Judgment—and whomever I was hostile to, I will overpower and defeat him: First: one who gives his oath, swears by Allah, and makes a covenant, then breaks it and betrays. Second: one who sells a free man as if he were a slave, consumes his price, and disposes of his value. Third: one who hires a worker for a task, takes full work from him, but does not pay him his due wages.