Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔

عن أنَسُ بنُ مالك رضي الله عنه قال: «أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا مَرْضُوضاً بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ من فَعَلَ هَذَا بِك: فُلانٌ، فُلانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْترف، فَأَمَرَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ».
وَلِمُسْلِمٍ وَالنَّسَائِيَّ «أَنَّ يَهُودِيّاً قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ الله».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب ایک یہودی کا نام آیا، تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں)، یہودی پکڑا گیا اور اس نے جرم کا اقرار کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا جائے۔
صحیح مسلم اور سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی لالج میں ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو قصاص میں قتل کیا۔
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: A girl was found with her head crushed between two stones. They asked her: "Who did that to you? Is it so-and-so, or so-and-so?" They kept mentioning names until they mentioned the name of a Jew, whereupon she nodded her head. The Jew was captured, and he confessed. Thereupon, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered that his head be crushed between two stones. In another narration by Muslim and An-Nasā'i: "A Jew killed a girl for her jewelry, so the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) killed him in retaliation for her."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #2943

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ لوگوں نے اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق کرنے لیے، اس کے سامنے ان افراد کے نام گنانے شروع کر دیے، جن کے بارے میں اس بات کا گمان تھا کہ وہ اس کو قتل کرسکتے ہیں، تا آں کہ ایک یہودی کا نام لینے پر اس لڑکی نے اپنے سر سے مثبت اشارہ دیا کہ ہاں! اسی شخص نے اس کا سر کچلا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا ملزم قرار پاگیا۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے جرم کا اقرار کروایا، تاآں کہ اس نے اس لڑکی کو، اس کے چاندی کے زیورات کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ لہٰذا نبی ﷺ نے ”جیسے کو تیسا“ کے اصول کے مطابق، اس کو سزا دیتے ہوئے اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔

Explanation

During the time of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), a girl whose head was crushed between two stones was found while she was still alive. They asked her about the perpetrator by mentioning some names of those who could have done that to her. When the name of a Jewish man was mentioned, she nodded her head, meaning that he was the perpetrator. He was thus accused of killing her. They captured him, and he confessed that he had killed her in order to steal silver jewelry which she was wearing. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered that he should be killed in exactly the same manner in which he killed that girl in retaliation for her. Thus, his head was crushed between two stones.

Topics موضوعات