انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3014Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3014)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر میں تھے۔ سفر کے دوران آپ نے وضو کیا۔ وضو کرتے ہوئے جب پاؤں دھونے کی باری آئی، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے موزوں کو اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تاکہ آپ اپنے پیروں کو دھو سکیں۔ ان کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: انھیں رہنے دو۔ ان کو مت اتارو۔ کیوں کہ جب میں نے موزے پہنے تھے، اس وقت میں باوضو تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیروں کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کیا۔
حدیث کے فوائد
- وضو کے وقت موزوں پر مسح کی اجازت صرف حدث اصغر دور کرنے کے لیے ہے۔ رہی بات حدث اکبر کی، جس میں غسل واجب ہوتا ہے، تو اس میں دونوں پیروں کو دھونا ضروری ہے۔
- مسح کرتے وقت تر ہاتھوں کو موزے کے اوپری حصے پر ایک بار پھیرنا ہے۔ ہاتھوں کو موزوں کے نچلے حصے پر نہيں پھیرنا ہے۔
- موزوں پر مسح کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ موزوں کو مکمل وضو، جس میں قدموں کو دھویا گیا ہو، کے بعد پہنا گیا ہو، موزے پاک ہوں، قدم کے اس حصے کو چھپاتے ہوں جسے وضو کرتے وقت دھونا ضروری ہے، مسح حدث اکبر نہیں بلکہ حدث اصغر دور کرنے کے لیے کیا جائے اور شریعت کی جانب سے متعین وقت کے اندر کیا جائے۔ شریعت نے مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جب کہ مسافر کے لیے تین دن اور تین رات مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔
- "خفین" یعنی چمڑے کے موزوں پر قیاس کرتے ہوئے دوسری چیزوں سے بنے ہوئے موزوں پر بھی مسح کرنا جائز ہوگا۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حسن اخلاق اور حسن تعلیم کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کو موزے اتارنے سے منع کیا، تو ساتھ میں اس کی وجہ بھی بتا دی کہ موزے طہارت کی حالت میں پہنے گئے ہیں، تاکہ ان کو اطمینان ہو جائے اور مسئلہ بھی معلوم ہو جائے۔
Explanation
In one of his journeys, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was performing ablution. On reaching the part of washing the feet, Al-Mughīrah ibn Shu‘bah (may Allah be pleased with him) stretched his hands to take off the Prophet's leather socks to wash his feet. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Leave them and do not take them off, for I had put them on while being in a state of Tahārah (ritual purity). Hence, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) wiped over his leather socks instead of washing his feet.