صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5401Sahih صحیح
عن البَرَاء بن عَازب رضي الله عنهما قال: «خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد الصلاة، فقال: من صلى صلاتنا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فقد أصاب النُّسُكَ، ومن نسك قبل الصلاة فلا نُسُك له. فقال أبو بُرْدَةَ بن نِيَار -خال البَرَاء بن عَازبٍ-: يا رسول الله، إني نسكت شاتي قبل الصلاة، وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب، وأحببت أن تكون شاتي أول ما يذبح في بيتي، فذبحت شاتي، وتغديت قبل أن آتي الصلاة. فقال: شاتك شاة لحم. قال: يا رسول الله، فإن عندنا عَنَاقًا لنا هي أحب إلي من شاتين؛ أَفَتَجْزِي عني؟ قال: نعم، ولن تَجْزِيَ عن أحد بعدك».
براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی“۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی، میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے، میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز میں آنے سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمھاری بکری محض گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! لیکن تمھارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Al-Barā' ibn ‘Āzib (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered a sermon after having offered the prayer on Eid al-Ad'ha. He said: "Whoever prayed our prayer and slaughtered our sacrifice has properly observed the ritual. And whoever slaughtered (his sacrifice) before the (Eid) prayer has not observed the ritual." Abu Burdah ibn Niyār (the uncle of Al-Barā' ibn ‘Āzib) said: "O Messenger of Allah, I slaughtered my sheep before the prayer. I know that today is a day of eating and drinking, so I liked to have my sheep as the first thing to be slaughtered at my home. I slaughtered it and ate before coming to the prayer." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) replied: "The sheep which you have slaughtered is just a sheep (slaughtered) for meat (i.e. not a ritual sacrifice)." He (Abu Burdah) said: "O Messenger of Allah, we have a young she-goat which is dearer to me than two sheep. Will that be valid as a sacrifice for me?" The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Yes, but it will not be valid (as a sacrifice) for anyone else after you."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5401

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد خطبہ دیا اور صحابۂ کرام کے روبرو قربانی اور اس کے وقت سے متعلق احکام واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اس نماز کی طرح نماز ادا کی اور اس قربانی کی طرح اپنی قربانی کی، جس کے بارے میں نبی ﷺ کی ہدایت و رہ نمائی موجود ہے، اس نے شرعی اعتبار سے اپنی قربانی کی۔
البتہ جس نے عید کی نماز سے قبل قربانی کی، اس نے قربانی کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی اپنی قربانی ذبح کر دی۔ چنانچہ اس کی حیثیت محض کھائے جانے والے گوشت کی ہوگی اور اس کا شمار مشروع اور مقبول قربانی میں نہ ہوگا۔ جب ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا، تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے قبل ہی اپنی بکری کی قربانی کردی اور مجھے یہ بات سجھائی دی کہ چوں کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میرے نزدیک یہ امر بھی بہت عزیز تھا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری قربان کی جائے،اس لیے میں نے اپنی بکری کی قربانی کردی اور نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی میں نےاپنا ناشتہ بھی کرلیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ شرعی اعتبار سے تمھاری قربانی، قربانی نہیں ہوئی، بلکہ اس کی حیثیت محض بکری کے گوشت کی ہے۔انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے یہاں گھر کی پالی ہوئی ایک بکری ہے، جو میرے نزدیک بڑی قیمتی اور دو بکریوں کی سے زیادہ عزیز ہے، اگر میں اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں قربان کردوں اور اسے ذبح کردوں، تو میرے لیے کافی ہوگی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں! البتہ یہ حکم ساری امت کے لیے نہیں ہے، بلکہ خاص تمھارے لیے ہے؛ اس لیے امت مسلمہ کے لیے اس بکری کے بچے کی قربانی جائز نہیں، جس کا ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) delivered a sermon on the Day of Eid al-Ad'ha after having offered the prayer. He explained the rulings of slaughtering and its prescribed time on the day of Eid to the Companions. He added that whoever offered prayer and sacrificed in the same manner as the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did, his ritual would be properly observed. However, if someone slaughtered his animal before the prescribed time of slaughtering started, then his sacrifice would be considered normal slaughtering for the sake of meat, and not an accepted rite or act of worship. When Abu Burdah heard this, he asked: "O Messenger of Allah, I slaughtered my sheep before the prayer. I know that today is a day of eating and drinking, so I liked to have my sheep as the first thing to be slaughtered at my home. I slaughtered it and ate before coming to the prayer."
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him that this was not the prescribed sacrifice and that it would be considered as an animal slaughtered to make use of its meat only. Abu Burdah then told the Prophet that he had a young she-goat which was dearer to him than two sheep; and he asked if slaughtering it would be considered a valid sacrifice for the sake of Allah? The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Yes, but this ruling is for you exclusively and is not generalized for the rest of the Ummah, as a little she-goat is not valid for sacrifice until it has completed one year of age.

Topics موضوعات