صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، تم اس وقت تک اس کے پاس نہیں جاسکتی، جب تک تم اس کا مزہ نہ چکھ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6089Sahih صحیح
عن عائشة- رضي الله عنها- مرفوعاً: «جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: كنت عند رفاعة القرظي فطلقني فَبَتَّ طلاقي، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبير، وإنما معه مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تَذُوقي عُسَيْلَتَهُ، ويذوق عُسَيْلَتَكِ، قالت: وأبو بكر عنده، وخالد بن سعيد بالباب ينتظر أن يؤذن له، فنادى: يا أبا بكر، ألا تسمع إلى هذه: ما تَجْهَرُ به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس رفاعہ القرظی کی بیوی آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے حرم میں تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتّہ دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرم گاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: کیا تم رفاعہ کے ہاں واپس جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا، جب تک تم اس (عبد الرحمن) کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اپنے لیے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انھوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے؟
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) reported: The wife of Rifā‘ah al-Qurazhi came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and said: "I was with Rifā‘ah al-Qurazhi, and he divorced me and it was an irrevocable divorce. Then I married ‘Abdur-Rahmān ibn Az-Zubayr, and he only has the like of a garment's fringe." The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) smiled and said: "Do you want to go back to Rifā‘ah? Not until you taste his sweetness and he tastes your sweetness (have sexual intercourse)." She (‘Ā'ishah) said: "Abu Bakr was with him, and Khālid ibn Sa‘īd was at the door waiting to be allowed in. Khālid called out: 'O Abu Bakr, do you not hear what this [woman] is saying? What is she saying openly in the presence of the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him)!'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6089

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ ﷺ کے پاس اپنی حالت کی شکایت لے کر آئی اور کہا کہ میں رفاعہ کے حرم میں تھی۔ اس نے مجھے آخری طلاق یعنی طلاقِ بتّہ دے دی، یہ ان کی تیسری طلاق تھی۔ اس کے بعد انھوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی، لیکن وہ ان کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا آلۂ تناسل کمزور لٹکا ہوا تھا اور اس میں تناؤ نہیں تھا۔ آپ ﷺ ان کی اونچی آواز سے گفتگو کرنے اور ایک ایسے مسئلے کی صراحت کرنے پر مسکر اٹھے، جسے بیان کرنے سے عام طور پر عورتیں شرماتی ہیں۔ آپ ﷺ ان کا ارادہ سمجھ گئے۔ یعنی وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں عبدالرحمٰن کے ساتھ نکاح کرنے سے یہ رفاعہ کے لئے حلال ہو چکی ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ رفاعہ کے لیے حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر کے ساتھ جماع کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جو اس طرح کی گفتگو رسول اللہ ﷺ کے پاس کر رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ یہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں آپ ﷺ کا رعب اور جلال تھا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں اپنے سے راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کے آداب کی رعایت اور اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Explanation

The wife of Rifā‘ah al-Qurazhi came to complain about her situation to the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him). She told him that she was married to Rifā‘ah, who gave her a third irrevocable divorce. Then she married ‘Abdur-Rahmān ibn Az-Zubayr who, nevertheless, could not have sexual intercourse with her, because of his inability to have a penile erection. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) smiled at her explicit words, which women would usually feel too shy to say. He understood that she wanted his judgment to go back to her ex-husband, Rifā‘ah. The lady believed that she was now lawful for Rifā‘ah on the grounds of her marriage contract with ‘Abdur-Rahmān. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) refused to grant her that judgment. To become lawful for her ex-husband, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: She must have sexual intercourse with her new husband. Abu Bakr was with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and Khālid ibn Sa‘īd was standing at the door, waiting to be allowed in. So Khālid called out to Abu Bakr in resentment at what the lady said to the Prophet. Indeed, the Companions (may Allah be pleased with them) had great reverence and esteem for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). We ask Allah to grant us respect for and compliance with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him).

Topics موضوعات