سنن ابو داؤد · سنن نسائی · سنن ابن ماجہ
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Sunan Ibn Majah

جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58202Sahih صحیح
عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قُتِلَ في عِمِّيّا، أو رِمِّيَاً يكون بينهم بحَجَرٍ، أو بِسَوْطٍ، فَعَقْلُهُ عَقْلُ خطإ، ومن قَتَلَ عَمْدَاً فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فمن حَالَ بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص جان کے بدلے جان کی ہوگی اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn Abbās (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ''Whoever is killed in ambiguous circumstances, or when people are throwing stones, or by a whip, his blood money is the blood money of unpremeditated killing. Whoever is killed intentionally, retaliation becomes due. If anyone tries to prevent it, upon him is the curse of Allah, the angels, and all people.”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majah
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58202

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔

Explanation

This Hadīth shows that anyone who is killed among people who were throwing objects at each other, or killed in ambiguous circumstances due to crowd or the like, and the killer is unknown, then the blood money will be like that of accidental murder, to be reimbursed by the Muslim treasury. However, in case of intentional killing, legal retribution is due. Anyone who prevents the guardians of the killed person from taking retribution, after having demanded it, has exposed himself to divine curse. Allah will not accept his repentance, religious duties, or voluntary good deeds, due to the gravity of his crime.

Topics موضوعات