جامع ترمذی
Jami' at-Tirmidhi

جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
10979Sahih صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت: «ما أَغْبِطُ أحدًا بهَوْنٍ موتٍ بَعْدَ الذي رَأَيتُ مِنْ شدَّة مَوْت رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر رشک نہیں کرتی"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā'ishah reported: I do not covet someone to have an easy death, after seeing the difficult death of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him).
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhi
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #10979

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت درپیش سختی کا منظر دیکھا ہے، تب سے کسی کی آسان موت پر خوش نہیں ہوتیں اور آسان موت نصیب ہونے کی تمنا بھی نہیں کرتیں۔ کیونکہ وہ جان چکی تھیں کہ نہ تو موت کی سختی مرنے والے کے برے انجام کی دلیل ہے اور نہ آسان موت کوئی عزت افزائی کی بات ہے۔ اگر سچ مچ ایسا ہوتا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو آسان سے آسان تر موت نصیب ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ وہ موت کی سختی کو ناپسند کرتی تھیں اور نہ کسی کی آسان موت پر خوش ہوتی تھیں۔

Explanation

‘Ā'ishah says that she would not be happy for anyone, even herself, to have an easy death, as she had seen the difficult death of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). The point here is that a difficult death is not evidence of a bad ending and an easy death is not a sign of a noble end, otherwise, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would be the most deserving of that. So a hard death should not be disliked nor an easy death be rejoiced.

Topics موضوعات