جب رمضان کا آخری عشرہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو اس کے لیے جگاتے اور پوری کوشش وتن…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4944Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4944)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں، تو نبی ﷺ ساری ساری رات مختلف قسم کی عبادتیں کرتے ہوئے گزارتے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کے لیے بیدار کرتے۔ معمول سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرتے اور اس کے لیے یکسو ہو جاتے اور اپنی بیویوں سے دور رہتے۔
حدیث کے فوائد
- فضیلت والے اوقات کو نیک اعمال سے آباد کرکے ان سے مستفید ہونے کی ترغیب۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں زیادہ عبادت کرنا اور ان کى راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے۔
- بندے کو چاہیے کہ اپنے اہل خانہ کے تئیں فکر مند رہے، انہیں عبادت کا حکم دے اور ان کی پوری نگہ داشت کرے۔
- نیکی کے کام کرنے کے لیے مضبوط عزم و ارادے، صبر اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث کے الفاظ "شدّ المِئزر" کے معنی کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف ہے۔ کسی نے کہا: اس سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا عام معمول سے بڑھ کر عبادت کرنا ہے۔ اس طرح ان الفاظ کے معنی ہوئے: عبادت کے لیے کمر کس لینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے : "شَدَدْتُ لهذا الأمر مِئزري"۔ یعنی اس کام کے لیے میں نے کمر کس لیا اور خود کو یک سو کرلیا۔ جب کہ کسی نے کہا ہے: یہ الفاظ کنایہ ہیں عبادتوں میں مشغول ہونے کی خاطر عورتوں سے علاحدگی اختیار کرلینے سے۔
Explanation
Upon the start of the last ten days of Ramadan, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) would revive the whole night with various acts of obedience. He would wake up his family to pray. He would exert himself in worship more than he usually did, and he would devote himself entirely to worship and avoid having intimate relations with his wives.