جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے دراصل روزہ ہی نہیں رکھا۔ مہینے کے تین روزے سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہیں
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6017Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6017)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطلاع ملی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سال بھر لگاتار روزہ رکھتے ہیں اور ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتے۔ اسی طرح رات رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں اور سوتے ہی نہیں ہيں۔ لہذا انھیں اس سے منع کیا اور فرمایا: روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کرو۔ رات میں قیام بھی کرو اور سو بھی لیا کرو۔ ان کو لگاتار روزہ رکھنے اور رات رات بھر قیام کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا کروگے، تو تمھاری آنکھ کمزور ہو جائے گی اور اندر دھنس جائے گی۔ تمھارا جسم کمزور ہوجائے گا اور تھک جائے گا۔ جس نے سال بھر روزہ رکھا، اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔ کیوں کہ نہی کی مخالفت کی وجہ سے اجر وثواب سے محروم رہا اور کھایا پیا بھی نہيں۔ اس کے بعد ان کی رہ نمائی مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی جانب فرمائی کہ یہ سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہے۔ کیوں کہ ایک دن کا ثواب دس دن کے برابر ملے گا، جو کہ نیکیوں میں اضافے کی قلیل ترین مقدار ہے۔ آپ کی اس رہنمائی کے بعد عبداللہ نے عرض کیا: میرے اندر اس سے زیادہ کرنے کی طاقت ہے۔ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر ایسا ہے، تو تم داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو سب سے افضل روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت بھاگتے نہیں تھے، کیوں کہ ان کے روزہ رکھنے کا طریقہ ان کے جسم کو کمزور نہيں ہونے دیتا تھا۔
حدیث کے فوائد
- ہر مہینے کے تین روزے سال بھر کے روزے کی طرح ہيں۔ کیوں کہ نیکی کا ثواب دس گنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح تین روزے تیس دن کے روزے ہوئے۔ اس لیے جس نے ہر مہینے تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزہ رکھا۔
- الله کی طرف دعوت دينے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عمل کی ترغیب دی جائے اور اس کے اجر اور اس پر ثابت قدم رہنے کا ثواب ذکر کیا جائے۔
- خطابی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کے قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت صرف روزے تک محدود نہيں ہے، بلکہ اور بھی مختلف طریقے کی عبادتیں ہیں۔ ایسے میں اگر بندہ اپنی پوری توانائی روزے میں صرف کر دے، تو دوسری عبادتوں میں کوتاہی کا شکار ہو جائے گا۔ لہذا یہاں میانہ روی سے کام لینا چاہیے، تاکہ دوسری عبادتوں کے لیے بھی طاقت وقوت بچی رہے۔ اس کی جانب اشارہ داؤد علیہ السلام کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ملتا ہے: "دشمن سے مقابلے کے وقت بھاگتے نہيں تھے۔" کیوں کہ وہ روزہ نہ رکھ کر جہاد کے لیے قوت حاصل کرتے تھے۔
- عبادت میں تعمق وتکلف کی ممانعت۔ خیر سنت کے التزام میں ہے۔
- جمہور اہل علم کے یہاں بلاناغہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر انسان اپنے نفس پر سختی کرے، اسے نقصان پہنچائے، اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے اعراض کرے اور غیر سنت کو سنت سے افضل سمجھے تو حرام ہو جائے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was informed that ‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him and his father) was fasting continuously without breaking his fast throughout the year and was praying the entire night without sleeping. So, he forbade him from doing that and said to him: Fast and break your fast, and stand in prayer and sleep. He forbade him from fasting continuously and standing in prayer all night, and said to him: If you do that, your eyes will become weak and sunken, and your soul will become exhausted and weary. The one who fasts the entire year has not truly fasted, as he does not obtain the reward of fasting due to violating the prohibition, and he does not experience the benefit of breaking the fast, as he is constantly abstaining. Then he guided him to fasting three days of each month, as it is equivalent to fasting the entire year, because each day is counted as ten days, which is the minimum multiplication of a good deed. ‘Abdullah said: Indeed, I am capable of more than that. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Then fast the fast of David (peace be upon him), which is the best type of fast, as he used to fast every other day and he would not flee when facing the enemy because the way he adopted in fasting did not weaken his body.