تم ميں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے: میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی، لیکن…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية لمسلم: «لا يزال يُستجاب للعبد ما لم يَدْعُ بإثم، أو قطيعة رحم، ما لم يَسْتَعْجِلْ» قيل: يا رسول الله ما الاستعجال؟ قال: «يقول: قد دعوت، وقد دعوت، فلم أر يستجب لي، فَيَسْتَحْسِرُ عند ذلك ويَدَعُ الدعاء».
مسلم کی روایت میں ہے: ”بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ کسی برائی اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جب تک وہ جلدی نہ کرے“۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یوں کہنے لگے کہ میں نے بہت مرتبہ دعا کی تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ قبول ہوئی۔ اس پر وہ افسوس شروع کردے اور دعا کرنا چھوڑ دے“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3232Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 3232)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ بندے کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ دعا کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو اور وہ اس میں جلدی نہ کرے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اس جلد بازی سے کیا مراد ہے، جو دعا کی قبولیت میں آڑے آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: میں نے دعا مانگی اور بار بار مانگی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ چنانچہ جلد بازی کرتے ہوئے وہ دعا ہی کرنا چھوڑ دے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) tells that Allah, the Almighty, answers the invocations of His slave, so long as he does not supplicate for an act of disobedience or for severing kinship ties, and so long as he is not hasty. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about the nature of haste that prevents the fulfillment of supplication. He explained that one complains that he supplicates repeatedly but gets no answer. Upon that, he thinks that his invocation is not going to be answered out of haste, so he stops asking Allah, the Almighty.