مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #11180Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 11180)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مجھے پتہ ہو جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اور کب ناخوش۔ انھوں نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ تو فرمایا : جب مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم۔ یعنی قسم میں میرا نام لیتی ہو۔ لیکن جب ازدواجی زندگی سے متعلق کسی بھی دنیوی سبب کی بنا پر مجھ سے ناخوش رہتی ہو، تو قسم کھاتے وقت کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم۔ یعنی میرے بجائے ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی ہو۔ انھوں نے کہا: ہاں، ایسا تو ہے۔ لیکن اے اللہ کے رسول! سچائی یہ ہے کہ میں ناراضگی کے دوران محض زبان سے آپ کا نام لینے سے گریز کرتی ہوں اور آپ کی محبت میرے دل کی گہرائیوں میں پیوست رہتی ہے۔
Explanation
‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) said that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) told her that he knew it when she was pleased with him or angry with him. She asked him how he knew that and he replied: "When you are pleased with me, you say: 'No, by the Lord of Muhammad,' so you mention my name in your oath. But when you are angry with me because of one of the worldly aspects of our marital life, you say: 'No, by the Lord of Ibrahīm.' So you drop my name and mention, instead, the name of Ibrahīm. Thereupon, she said that it was true; she only refrained from mentioning his name for the duration of her anger, but her love for him was always firm in her heart.