صحیح مسلم
Sahih Muslim

تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
3779Sahih صحیح
عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِثَلَاثٍ يَقُولُ: «لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللهِ الظَّنَّ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) three days before his death saying: "Let none of you die except while having good expectations of Allah."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #3779

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی وفات اللہ سے حسن ظن رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ موت کے وقت امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے اور دل میں یہ بات ہونی چاہیے کہ اللہ اس پر رحم کرے گا اور عفو ودرگزر فرمائے گا۔ کیوں کہ دراصل خوف مطلوب ہے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اور وہ وقت عمل کا وقت نہیں ہے۔ لہذا وہاں امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔

حدیث کے فوائد

  • امت کی رہنمائی کے تئیں نبیﷺ کی حرص اور ان کے تمام احوال میں نہایت مہربانی وشفقت کا رویہ، حتی کہ اپنے مرض الموت میں امت کو نصیحت کرنا اور نجات کی راہوں کی طرف رہنمائی کرنا۔
  • طیبی کہتے ہیں: ابھی اپنے اعمال کو بہتر بنا لو، تاکہ تم موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان رکھ سکو۔ کیوں کہ جس کا عمل موت سے پہلے برا ہوگا، وہ موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان نہيں رکھ سکے گا۔
  • بندے کے لیے کامل ترین حالت امید اور خوف کے درمیان توازن اور محبت کا غلبہ ہے۔ محبت گاڑی ہے، امید سواری ہے، خوف ڈرائیور ہے اور اللہ اپنے فضل وکرم سے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
  • جب کسی کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے پاس بیٹھے لوگوں کو چاہیے کہ امید کا پہلو غالب رکھے اور اللہ سے حسن ظن کی تلقین کرے۔ کیوں کہ اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنی موت سے تین دن پہلے کہی۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) is urging Muslims not to die except while having good expectations of Allah by making their hope for Allah's mercy and pardon outweigh when being in a state of moribundity. Because fear is required to improve deeds; however, this is not a state for offering deeds. Hence, the prevalence of hope is required here.

Topics موضوعات