تم میں سے ہر شخص کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہو”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #3779Sahih Muslim (HadeethEnc 3779)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی وفات اللہ سے حسن ظن رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ موت کے وقت امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے اور دل میں یہ بات ہونی چاہیے کہ اللہ اس پر رحم کرے گا اور عفو ودرگزر فرمائے گا۔ کیوں کہ دراصل خوف مطلوب ہے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اور وہ وقت عمل کا وقت نہیں ہے۔ لہذا وہاں امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔
حدیث کے فوائد
- امت کی رہنمائی کے تئیں نبیﷺ کی حرص اور ان کے تمام احوال میں نہایت مہربانی وشفقت کا رویہ، حتی کہ اپنے مرض الموت میں امت کو نصیحت کرنا اور نجات کی راہوں کی طرف رہنمائی کرنا۔
- طیبی کہتے ہیں: ابھی اپنے اعمال کو بہتر بنا لو، تاکہ تم موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان رکھ سکو۔ کیوں کہ جس کا عمل موت سے پہلے برا ہوگا، وہ موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان نہيں رکھ سکے گا۔
- بندے کے لیے کامل ترین حالت امید اور خوف کے درمیان توازن اور محبت کا غلبہ ہے۔ محبت گاڑی ہے، امید سواری ہے، خوف ڈرائیور ہے اور اللہ اپنے فضل وکرم سے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
- جب کسی کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے پاس بیٹھے لوگوں کو چاہیے کہ امید کا پہلو غالب رکھے اور اللہ سے حسن ظن کی تلقین کرے۔ کیوں کہ اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنی موت سے تین دن پہلے کہی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) is urging Muslims not to die except while having good expectations of Allah by making their hope for Allah's mercy and pardon outweigh when being in a state of moribundity. Because fear is required to improve deeds; however, this is not a state for offering deeds. Hence, the prevalence of hope is required here.