صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا ، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8414Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «قال رجل لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد سارق، فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ على سارق! فقال: اللهم لك الحمد لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد زانية؛ فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ الليلة على زانية! فقال: اللهم لك الحمد على زانية! لأَتَصَدَّقَنَّ بصدقة، فخرج بصدقته فوضعها في يد غني، فأصبحوا يتحدثون: تُصُدِّقَ على غني؟ فقال: اللهم لك الحمد على سارق وعلى زانية وعلى غني! فأتي فقيل له: أما صدقتك على سارق فلعله أن يَسْتَعِفَّ عن سرقته، وأما الزانية فلعلها تَسْتَعِفُّ عن زناها، وأما الغني فلعله أن يَعْتَبِرَ فيُنْفِقَ مما أعطاه الله».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔ پھر اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں اور بھی صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (دوسرے دن) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں پھر صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک مال دار شخص کو تھما آیا۔ پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مال دار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا : اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ چنانچہ اس کے پاس کوئی آیا اور کہا: جہاں تک چور کو تیرے صدقہ کرنے کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ چوری سے باز آ جائے۔ جہاں تک زانیہ کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ زنا سے کنارہ کش ہو جائے اور جہاں تک مال دار کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "A man said: 'Indeed, I will give in charity.' So he took his charity out and placed it in a thief's hand. Next morning, people were saying: 'Charity was given to a thief.' The man said: 'O Allah, praise be to You. Indeed, I will give in charity!' So he took his charity out and placed it in a prostitute's hand. Next morning, they were saying: 'Charity was given to a prostitute last night.' So the man said: 'O Allah, praise be to You concerning the prostitute. Indeed, I will give in charity!' So he took his charity out and placed it in a rich man's hand. Next morning, they were saying: 'Charity was given to a rich man.' The man said: 'O Allah, praise be to You concerning the thief, the prostitute, and the rich man.' Then he was approached and told: 'As for your charity to a thief, he might refrain from theft. As for the prostitute, she might abstain from fornication. As for the rich man, he might take a lesson and spend from the wealth that Allah has given him.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8414

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ہمیں نبی ﷺ نے پچھلی امتوں کے واقعات میں سے یہ واقعہ بتایا؛ تاکہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی صدقہ دینے کی غرض سے نکلا۔ یہ معروف بات ہے کہ صدقہ فقرا اور مساکین کو دیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات میں ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ چور کی سرزنش کا حق دار ہوتا ہے؛ مال و دولت دیے جانے کا نہیں۔ ایسے میں صدقہ دینے والے نے کہا: اللہ تیری تعریف و شکر ہے؛ کیوں کہ ہر حال میں اس کی تعریف و شکر ہونا چاہیے۔ پھر یہ آدمی نکلا اور کہا: آج رات میں صدقہ کروں گا۔ لیکن اس نے ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں صدقہ رکھ دیا، جو لوگوں سے زنا کرواتی تھی۔ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ عقل و فطرت تسلیم نہیں کرتی کہ ایک زانیہ کو صدقہ دیا جائے۔ اس آدمی نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے کہا: آج رات صدقہ کروں گا۔ گویا وہ اپنے پہلے اور دوسرے صدقے کو نامقبول سمجھے ہوئے تھا۔ اس نے صدقہ دیا، تو ایک مال دار آدمی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ جب کہ مال دار آدمی صدقے کا مستحق نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے تحفہ تحائف وغیرہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ اس کی چاہت تھی کہ اس کا صدقہ کسی پاک باز متعفف فقیر کو ملے؛ لیکن اللہ کی لکھی تقدیر ہوکر رہتی ہے۔ اسے اس امت کے نبی کے ذریعے خبر دی گئی کہ تمھارا صدقہ قبول کر لیا گیا؛ کیوں کہ وہ مخلص تھا اور اس کی نیت اچھی تھی، لیکن اس کی نیت پوری نہ ہو سکی۔ جب کہ ممکن ہے کہ چور صدقہ پا نے کے بعد یہ سمجھے کہ میرے لیے یہ مال کافی ہے اور وہ اپنی چوری سے باز آ جائے یہ کہتے ہوئے کہ میرے لئے یہ مال کافی ہے۔ رہی زانیہ تو شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے؛ کیوں کہ بسا اوقات وہ حصول مال کے لیے زنا میں ملوث ہوتی ہے (اللہ بچائے) اور اسے زنا سے روکنے لائق مال حاصل ہو چکا ہے اور رہا مال دار آدمی تو شاید وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔

Explanation

The Prophet told us about previous nations, so we may learn from their stories. This Hadīth relates the story of a man who gave in charity on three different occasions, and indeed, charity should be given to the poor and those in need. However, this man's first charity fell into a thief’s hand. This made people say the next morning that charity had been given to a thief. Granted, a thief should be punished rather than given something that increases his wealth, however the man who gave the charity thanked Allah, for Allah is worthy of praise in every situation. Then the man said that he would give more in charity, but this time his charity fell into a prostitute’s hand. So the people gossiped next morning that charity had been given to a prostitute. It was something unbelievable and unnatural, but the man praised Allah again. Thinking that his first and second donations were not accepted, he said that he would give in charity a third time. This time his charity fell into a wealthy man’s hand, and a rich person is not eligible to receive charity, although he may receive presents, gifts, and the like. So the next morning people gossiped that a wealthy man had been given charity last night. The giver of the charity again praised Allah, but wished that his charity had fallen in the hands of a poor, chaste, person, rather than a thief, a prostitute, or a rich man, but the situation had already been decreed by Allah. The prophet of his time told him that all his three donations had been accepted, due to his sincere intention to do something good, although he had not been able to do it. The morale of the story is that charity given to a thief may satisfy his needs and prevent him from stealing, a prostitute might be helped to stop her prostitution for the sake of money, and a wealthy man might take a lesson from this and give in charity himself.

Topics موضوعات